بنگلہ دیش کا ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرانے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
فاسٹ بولر مستفیض کو آئی پی ایل سے نکالنے کے معاملے پر بنگلہ دیش نے بھارت میں شیڈول ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز کو سری لنکا منتقل کرانے پر غور شروع کر دیا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے نکالنے کے معاملے پر فوری مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہنگامی مشاورت میں بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر باقاعدہ بورڈ میٹنگ بلانا ممکن نہیں، تاہم متعلقہ حکام کے ساتھ ہنگامی سطح پر مشاورت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشاورت کا مقصد موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور اصل حقائق سامنے لانا ہے جبکہ بورڈ کی اولین ترجیح کرکٹرز کی حفاظت اور سیکیورٹی ہے۔ امین الاسلام کے مطابق اس سلسلے میں مختلف متعلقہ ڈیپارٹمنٹس سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ سیکیورٹی کی یقین دہانی کے لیے آئی سی سی سے بات کرے گا۔ بی سی بی کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ بنگلا دیش اپنے میچز سری لنکا میں کھیلنے کے آپشن پر بھی غور کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیںبھارت کھیلوں میں سیاست سے باز نہ آیا، بنگلادیشی کھلاڑی آئی پی ایل سے باہر
خیال رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے بعض انتہا پسند عناصر کے دباؤ میں آ کر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد شاہ رخ خان کی ملکیت کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلا دیش کے فاسٹ بولر کو ٹیم سے فارغ کر دیا۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔ گروپ سی میں شامل بنگلا دیش کے چار میں سے تین میچز کولکتہ جبکہ ایک میچ ممبئی میں رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کے ساتھ پاکستان گروپ اے میں شامل ہے اور پاکستانی ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایل سے نکالنے آئی پی ایل سے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ سری لنکا
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز