امریکا نے وینزویلا پر حملہ کیوں کیا؟ حملے سے متعلق اہم تفصیلات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکی فوج نے وینزویلا کے مختلف شہروں پر حملے کیے ہیں، اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے، جبکہ امریکی عدالت نے ان پر فرد جرم بھی عائد کردی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی۔
امریکا کی خصوصی فورسز نے وینزویلا میں کارروائی کیسے کی؟امریکی فوج کی اعلیٰ انسداد دہشت گردی یونٹ ‘ڈیلٹا فورس’ نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘فاکس اینڈ فرینڈز’ سے گفتگو میں بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک ایسے مکان سے گرفتار کیا گیا جو قلعے کی طرح محفوظ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے کی ویڈیو لائیو دیکھی، نیویارک لا رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے پاس اسٹیل کے دروازے کاٹنے کے لیے بڑے بلاسٹ ٹورچ موجود تھے، لیکن مادورو اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس آپریشن میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور معمولی زخمی ہوئے، جبکہ انہوں نے یہ کارروائی براہِ راست دیکھی۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک جہاز پر سوار کر کے نیو یارک لے جایا جا رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، سی آئی اے کا ایک خفیہ ماخذ جو وینزویلا کی حکومت کے اندر تھا، نے مادورو کی موجودگی کا تعین کرنے میں امریکی افواج کی مدد کی۔ یہ آپریشن مہینوں کی منصوبہ بندی اور دیگر خفیہ معلومات پر مبنی تھا۔
مریکی سینیٹر مائیک لی نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں مزید کارروائی کی توقع نہیں ہے۔
مادورو کون ہیں اور کیوں گرفتار کیے گئے؟نیکولس مادورو نے وینزویلا کے سابق صدر ہگو چاویز کے زیر قیادت سیاسی منظرنامے میں قدم رکھا اور 2013 میں چاویز کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں مادورو کو فاتح قرار دیا گیا، تاہم اپوزیشن کے مطابق ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز نے واضح اکثریت سے جیت حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا پر امریکی حملے پر دنیا کو تشویش لاحق، یورپی ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی
مادورو امریکی حکومت کے ساتھ تنازعات میں رہے، خاص طور پر وینزویلا سے امریکا آنے والے مہاجرین اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے معاملات پر۔ صدر ٹرمپ نے دو وینزویلا نڈرل گروہوں، ٹرین ڈی ارواگا اور کارٹیل دے لوس سولیس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا اور الزام لگایا کہ کارٹیل دے لوس سولیس کی قیادت مادورو خود کر رہے تھے۔
امریکی حکومت نے مادورو کی گرفتاری کے لیے معلومات پر پچاس ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
مادورو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور امریکی ‘منشیات کے خلاف جنگ’ کو اپنے خلاف سازش قرار دیا، جس کا مقصد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا بتایا۔
گزشتہ چند مہینوں میں امریکی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں کئی کارروائیاں کیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن پر الزام تھا کہ وہ امریکا میں منشیات اسمگل کر رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Delta Force امریکا ڈیلٹا فورس منشیات وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈیلٹا فورس منشیات وینزویلا مادورو اور ان کی اہلیہ کو وینزویلا کے نے وینزویلا کے مطابق
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔