مودی سرکار کی خاموشی، کرسمس حملوں پر بالواسطہ منظوری کا تاثر: امریکی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصب، عدم برداشت اور تنگ نظری کو بے نقاب کرتے ہوئے مودی حکومت کے طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2014 میں نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مسلمان، جو بھارتی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں، انتہا پسند عناصر کے سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے۔ انہیں رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ ڈالنے جیسے بنیادی حقوق میں بھی امتیاز کا سامنا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں مسلمانوں کو کاروبار کرنے اور آزادانہ نقل و حرکت سے روکا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی برادری، جو بھارت کی آبادی کا صرف 2.
اخبار نے نشاندہی کی کہ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں کرسمس کے روز اسکول کھلے رکھنے کا حکم دیا گیا، جبکہ کرسمس تقریبات کے دوران انتہا پسند ہندو عناصر گرجا گھروں کے باہر جمع ہوئے، عیسائی مشنریوں کے خلاف نعرے بازی کی اور بلند آواز میں ہندو مذہبی دعائیں پڑھیں۔ ایسے واقعات بی جے پی کے زیرِ اقتدار متعدد ریاستوں میں سامنے آئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں سیکولرازم کبھی بھی مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں رہا، مگر مودی حکومت کے دور میں اس کا ظاہری تاثر بھی ختم ہو چکا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت تک نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مودی سرکار انتہا پسند ہندو عناصر کو خاموش منظوری دے رہی ہے۔
اسی تناظر میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ امریکا بھارت کو ’’خاص تشویش والا ملک‘‘ قرار دے، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں بلا روک ٹوک اور بغیر سزا کے جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔