کراچی کا پیسہ کراچی پر لگایا جا رہا ہے، شرجیل میمن کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ باشعور عوام جانتے ہیں کہ کون ان کی خدمت کر رہا ہے اور کون محض بیانات کی سیاست کے ذریعے اپنی ناکامیاں چھپا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حقائق کے منافی، نفرت پر مبنی بیانات اور سوشل میڈیا کے سستے نعروں سے تاریخ نہیں بدلی جا سکتی۔ اپنے ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کے مسائل سے پیپلز پارٹی نہ کبھی غافل رہی ہے اور نہ آج ہے، پانی، سیوریج، سڑکیں اور انفرااسٹرکچر وہ مسائل ہیں جنہیں سابقہ نام نہاد شہری حکومتوں کی دہائیوں کی غفلت نے جنم دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ وسائل کی منصفانہ تقسیم پر یقین رکھا ہے، کراچی کا پیسہ کراچی پر لگایا جا رہا ہے، سندھ کے سرکاری اسپتال نہ صرف جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کا ماڈل دیگر صوبوں کیلئے مثال بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کی مضبوطی، صوبائی خودمختاری اور عوامی فلاح کو مقدم رکھا ہے، سندھ کے باشعور عوام جانتے ہیں کہ کون ان کی خدمت کر رہا ہے اور کون محض بیانات کی سیاست کے ذریعے اپنی ناکامیاں چھپا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ سندھ کے رہا ہے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔