نرسنگ اور ہومیوپیتھی پر توجہ دیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260104-03-6
شجاع صغیر
اے ابن آدم ملک کے تمام شعبے بدحالی کا شکار ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے، نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی کے الیکشن کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا مگر اب تک نہ تو کونسل میں جیتنے والے ارکان کی حلف برداری ہوئی نہ ہی صدر منتخب ہوا۔ عوام کی خدمت کا ادارہ آج سیاسی چپلقش کی وجہ سے بدحال ہوچکا ہے، میری حکومت سے درخواست ہے کہ اس کونسل کو فوری فعال کرنے کے اقدامات کیے جائیں، مجھے یہ خیال امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی صدارتی تقریر سن کر آیا۔ آپ نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، نرسنگ یونٹ کراچی کے تحت نرسنگ کانفرنس سے جو خطاب کیا ایسا ہی ایک خطاب نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی اسلام آباد کے حوالے سے بھی ہونا چاہیے کیونکہ شعبہ ہومیوپیتھی کی ترقی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے جس انداز میں آپ نے شعبہ نرسنگ کے لیے حکومت سے مطالبات کیے وہ قابل تعریف ہیں آپ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت نے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو مکمل طور پر نظر انداز کررکھا ہے جس کے باعث نوجوان آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم ہیں۔ سندھ حکومت کا عمل وژن ’’جہالت سب کے لیے‘‘ بن چکا ہے۔ نرسنگ کا شعبہ صحت کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے حکومت کی عدم توجہی، نااہلی اور کرپشن کے باعث شدید مسائل کا شکار ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر نرسنگ کے لیے علٰیحدہ بجٹ مختص کیا جائے، نائٹ الائونس، ریسٹ الائونس اوور ٹائم کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کی جائے۔
سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں 10 سے 11 ہزار کے قریب نرسیں موجود ہیں، جبکہ نجی شعبے میں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، اس کے باوجود اسپتالوں میں ہزاروں نرسوں کی کمی ہے جسے پورا کرنا حکومت و ریاست کی ذمے داری ہے۔ عالمی معیار کے مطابق ایک نرس چار مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہے مگر پاکستان میں ایک نرس کو 15 سے 30 مریضوں کی ذمے داری دی جاتی ہے جو سراسر ظلم ہے، کراچی میں اس وقت 75 نرسنگ کالج موجود ہیں جن میں سے صرف 6 سرکاری ہیں جبکہ ملک بھر میں شعبہ صحت کے لیے مختص بجٹ 381 ارب روپے ہے جو عوامی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ نرسنگ کالجوں اور اسپتالوں کے درمیان کوئی موثر ہم آہنگی موجود نہیں جبکہ نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، کام کے شدید دبائو، چھٹیوں کی کمی، تنخواہوں اور مراعات کی عدم ادائیگی، اوور ٹائم، نائٹ الائونس، مناسب سیکورٹی کا فقدان اور عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بدانتظامی اور کرپشن نے نرسنگ کے شعبے کو مزید تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ضرورت ہے کہ نرسنگ کے طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ریفریشر کورسز کرائے جائیں اور ایسا نظام بنایا جائے کہ باصلاحیت افراد ملک چھوڑنے کے بجائے پاکستان میں رہ کر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ آج بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے یہ بیرون ملک جارہے ہیں، جن کو روکنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ جماعت اسلامی نرسنگ کے طلبہ کے لیے خصوصی آئی ٹی کورسز کا آغاز کررہی ہے۔
مجھے خوشی ہوتی ہے جب کوئی لیڈر تعمیر و ترقی کے حوالے سے سچ بولتا ہے۔ میرا ہمیشہ سے حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں شعبہ ہومیوپیتھی قائم کیا جائے جس طرح سے نرسوں کی آسامیاں سرکاری سطح پر آتی ہیں۔ اس طرح سے ہومیو ڈاکٹرز کی آسامیاں آنی چاہئیں جو حکومت کی نگرانی میں ہوں۔ جس دن ملک میں جماعت اسلامی کی حکومت آگئی تو ان شاء اللہ میری یہ خواہش ضرور پوری ہوگی۔ کچھ دن قبل پاکستان ہومیوپیتھک فزیشنز سوسائٹی کے بانی ڈاکٹر جاوید حسین شاہ اور چیئرمین ڈاکٹر عابد علی نے حکومت کو خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد رجسٹرڈ ہومیوپیتھک معالجین کی نمائندگی کرتے ہوئے اپیل کی کہ ہم نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی کو طبیب کونسل میں ضم کرنے اور رجسٹرڈ ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا لقب واپس لینے کی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم بھی ڈاکٹر لکھتے تھے جو ایلوپیتھک ڈاکٹرز کو پسند نہیں تھا۔ انہوں نے حکومت کو مجبور کیا کہ یہ ڈاکٹر نہیں ہیں لہٰذا حکومت نے کہا کہ آج سے ہومیوڈاکٹر باقاعدہ لکھے گا، ہومیوپیتھک ڈاکٹر تو ہم سب نے اسے حکومت کی تجویز کو مان لیا۔ اب ایک سازش اور ہورہی ہے اگر یہ تجاویز نافذ ہوئیں تو نہ صرف پاکستان میں ہومیوپیتھی کے نظام کی خود مختاری اور ساکھ کو نقصان پہنچے گا بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی صحت اور اعتماد بھی متاثر ہوگا جو سستی اور قابل رسائی علاج کے طور پر ہومیوپیتھی پر انحصار کرتے ہیں۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا لقب برسوں کی تعلیمی محنت اور عملی تجربے کی علامت ہے۔ اس کو ختم کرنا معالجین کی ساکھ اور
مریضوں کے اعتماد کو مجروح کرے گا۔ طبیب کونسل کے ساتھ انضمام، جو ایک الگ فلسفہ رکھنے والا نظام ہے شناخت کو دھندلا دے گا اور مریضوں میں الجھن پیدا کرے گا۔ ہومیو ڈاکٹرز، کلینکس اور فارمیسیز ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ادویات اور خدمات پر ٹیکس اس شعبے کو کمزور کرنے سے بے روزگاری بڑھے گی، علاج تک رسائی کم ہوگی اور قومی آمدن متاثر ہوگی۔ وزارت صحت کی جانب سے فی طالب علم سالانہ صرف 30 پیسے مختص کیے جاتے ہیں، اس کے باوجود ہومیوپیتھی نجی کوششوں سے لاکھوں افراد کی خدمت کررہی ہے۔ عالمی سطح پر فرق، بھارت، جرمنی، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک میں ہومیوپیتھی کو خود مختار کونسلرز، قومی جامعات اور سرکاری اسپتالوں کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے، بھارت میں ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو دیگر معالجین کے برابر درجہ حاصل ہے جبکہ پاکستان میں مجوزہ انضمام اس شعبے کو مزید پیچھے دھکیل دے گا۔ ہومیو ڈاکٹرز کا مطالبہ، نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھک کو اس کے قیام کے قانون کے مطابق آزاد رکھا جائے تا کہ اس شعبے کی ساکھ اور معیار محفوظ رہے۔ سرکاری شعبے میں ہومیوپیتھک جامعات قائم کرے۔ سرکاری صحت کے نظام میں ہومیوپیتھی کو شامل کرے۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کا لقب برقرار رکھا جائے۔ یہ لقب 1965 کے قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہومیوپیتھی کی مہارت اور طبی صلاحیت کی درست عکاسی کرتا ہے، اسے ختم کرنا ناانصافی ہوگی۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نرسنگ اور ڈاکٹر عابد علی نے ہومیوپیتھی کے حوالے سے جو کہا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے دونوں شعبے انسانیت کی دن رات خدمت کررہے ہیں۔ لہٰذا یہ سوتیلا پن ختم کیا جائے نہیں تو ہم بھی دھرنے دینے پر مجبور ہوں گے یہ آواز ہے ابن آدم کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل کونسل فار اسپتالوں میں جماعت اسلامی پاکستان میں نرسنگ کے نرسنگ کا کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم