ایران کیخلاف امریکی دھمکی مکر و فریب اور جارحیت کا اظہار ہے، راجا ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ایک ٹویٹ میں علامہ راجا ناصر عباس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کو دھمکی دینا اور وینزویلا پر فوجی حملے، بے باک رویّے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کو مکر و فریب اور جارحیت کا اظہار قرار دیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے علاقائی دفتر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف حالیہ دھمکیاں اور معاندانہ پالیسیاں سفارت کاری کے بجائے دنیا کو بے وجہ تنازعات کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کو دھمکی دینا اور وینزویلا پر فوجی حملے، بے باک رویّے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ طاقت کی نمائش کے ذریعے اپنے اندرونی بحرانوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وہ سفارت کاری پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا مطلب منافقانہ نیرنگ اور زور و طاقت کی نمائش کے سوا کچھ نہیں، اور یہ پالیسیاں بین الاقوامی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، دنیا کو ٹرمپ کے ان اقدامات کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے، دھمکی اور تشدد کی نمائش مسئلے کا حل نہیں اور یہ صرف کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکہ کے صدر نے حالیہ مہینوں میں بارہا ایران اور دیگر ممالک، جن میں وینزویلا بھی شامل ہے، کے خلاف جارحانہ اور دھمکی آمیز پالیسیاں اپنا رکھی ہیں، جن میں فوجی اقدامات کی دھمکی اور اقتصادی دباؤ شامل ہیں، جنہیں عالمی سطح پر وسیع ردِعمل کا سامنا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی ٹرمپ کی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔