Express News:
2026-07-24@05:00:24 GMT

احسان فراموشی

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

افغانستان ایک ایسا بدنصیب ملک ہے جسے برسوں سے استحکام نصیب نہیں ہوا۔ یہ اکثر غیرملکی جارحیت کا شکار رہا ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کی اشرافیہ ہر حملہ آورکے ساتھ سمجھوتہ کر لیتی ہے اور ان کے ساتھ چلنے لگتی ہے جب کہ افغانستان کے عوام نے کسی بھی جارح کی حکمرانی کو قبول نہیں کیا ہے۔

گزشتہ سو سالوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ یہ کبھی برطانوی جارحیت کا شکار ہوا تو کبھی روس نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، پھر امریکا نے روس کے بعد اپنا اقتدار قائم کر لیا۔

خوش قسمتی سے یہ پاکستان ہی ہے جس نے افغانستان کو روسی اور امریکی تسلط سے آزاد کرایا مگر آج وہی پاکستان جس کی کوششوں سے طالبان افغانستان کے حکمران بنے ہیں، پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں۔

پاکستان نے اپنی بساط کے مطابق جو بھی افغان عوام کی خدمت کر سکتا تھا، کی۔ افغانستان پر روسی جارحیت ہو یا امریکی قبضہ پاکستان نے وہاں سے آئے لاکھوں پناہ گزینوں کو قبول کیا اور انھیں اپنے ہاں باوقار طریقے سے اسلامی بھائی چارے کے تحت برسوں مہمان نوازی کی۔

گوکہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ہمیشہ اپنا برادر مسلم ملک ہونے کے ناتے مضبوط برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی مگر افغان حکمرانوں نے نہ جانے کیوں پاکستان کو دشمنوں کی نظر سے دیکھا اور نقصان پہنچانے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ حقیقت میں نقصان پہنچایا۔

جب کہ پاکستان نے پھر بھی اپنا برادر ملک سمجھا اور اس کے مفاد کے لیے کوشاں رہا، بدقسمتی سے افغان حکمران خود بھی پاکستان کے دشمن بنے رہے اور پاکستان کے دشمنوں سے تعلقات استوار کرکے ان کے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مذموم منصوبوں میں بھی شریک رہے۔

پاکستان سے افغانستان کی دشمنی کا معاملہ قیام پاکستان سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت پاکستان ایک نیا اسلامی ملک بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔ افغانستان کے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ایک اسلامی ملک جو کروڑوں پرعزم اسلامی ثقافت رکھنے والے انسانوں کا حامل تھا، ان سے گہرے دوستانہ روابط قائم کرتا۔

مگر اسے کیا کہیے کہ افغان حکمرانوں نے پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا اور بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں، نہ صرف پاکستان مخالف گروپوں سے تعلقات قائم کر لیے حتیٰ کہ بھارت جیسے پاکستان کے دشمن کو بھی اپنا دوست بنا لیا۔

دراصل بھارتی حکمرانوں کی طرح افغان حکمرانوں کا بھی خیال تھا کہ پاکستان بن گیا ہے مگر زیادہ دیر نہیں چلے گا، اس لیے پاکستان سے کیا دوستی بنانا، اصل تو بھارت ہے جو بڑا ملک ہے لہٰذا اس سے کیوں نہ تعلقات کو مضبوط کیا جائے اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔

افغانستان نے پاکستان کے وجود کو بادل نخواستہ تسلیم کیا، مگر تعلقات پھر بھی سردمہری کا شکار رہے۔ چند سال بعد وہاں بادشاہت ختم کر دی گئی اور سردار داوڈ نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس دوران بھی ان کا بھارت کی حمایت میں اور پاکستان مخالف رویہ برقرار رہا۔

افغانستان میں حکومتوں کے تسلسل سے تختے الٹتے رہے اور ملک سخت عدم استحکام کا شکار ہوتا رہا مگر انھیں اس کی ذرا فکر نہیں تھی۔ افغانستان کے عدم استحکام اور عوام کی حالت زار نے ملک کو اتنا کمزور کر دیا کہ روس نے موقع غنیمت جان کر افغانستان پر قبضہ کر لیا۔

روسی قبضے سے افغان عوام کی جان چھڑانے کے لیے پاکستان حرکت میں آیا اور امریکی مدد سے روس کو شکست دے کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔

اس کے بعد نائن الیون کا سانحہ پیش آ گیا۔ اس وقت افغانستان پر طالبان حکومت کر رہے تھے۔ طالبان کے سربراہ ملا عمر تھے، انھوں نے امریکی حکومت کو مطلوب اسامہ بن لادن کو اپنے ہاں مہمان بنا لیا۔

اسامہ بن لادن پر الزام تھا کہ وہی نائن الیون کے سانحے کا ذمے دار تھا، چنانچہ امریکی حکومت بضد تھی کہ اسامہ بن لادن کو فوراً افغانستان سے نکالا جائے مگر ملا عمر نے لیت ولعل سے کام لینا شروع کردیا اور پھر یہ ہوا کہ امریکا خود افغانستان پر قابض ہوگیا۔

امریکی قبضے سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے لیے افغانستان کو اپنا مرکز بنا لیا۔ بھارت ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں برابر دہشت گردی کراتا رہا، پھر امریکی افغانستان کو غیرمنافع بخش علاقہ قرار دے کر وہاں سے رخصت ہو گئے اور طالبان کو حکومت کرنے کا نادر موقع ہاتھ لگ گیا۔

پاکستان نے طالبان حکومت کی ہر ممکن مدد کی جب کہ کوئی بھی ملک امریکا کی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار نہیں تھا، اب طالبان افغانستان کے حکمران ہیں مگر پاکستان نے ان سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں کیونکہ تحریک طالبان پاکستان اب بھی پاکستان میں دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کی لاکھ شکایت پر بھی طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان پر حملے کرنے سے نہ روک سکے اور روکتے بھی کیسے کہ وہ تو ٹی ٹی پی کو اپنا سمجھتے ہیں ۔

ٹی ٹی پی کے مسلسل حملوں کے بعد پاکستان نے طالبان حکومت کی سردمہری دیکھ کر افغان سرحد کے اندر ٹی ٹی کے ٹھکانوں کا صفایا کرنے کی کوشش کی جس کی افغانستان نے مزاحمت کی جس سے طالبان کی پاکستان دشمنی ثابت ہو گئی۔

چنانچہ پاکستان نے اصل حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے نہ صرف افغانستان سے تجارت ختم کر دی بلکہ طورخم کے راستے کو بھی بند کر دیا۔

اس وقت افغانستان سخت پریشانی میں ہے، انھوں نے بھارت سے دوستی کر لی ہے مگر مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اس وقت افغانستان کے حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں، طالبان مخالف گروپ پھر طالبان کے خلاف برسر پیکار ہو گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر خود طالبان میں پاکستان سے دشمنی کرنے اور بھارت کو گلے لگانے پر سخت اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

 چنانچہ طالبان حکومت سخت خطرے میں ہے۔ کیا پتا کب طالبان حکومت ختم ہو جائے؟ ویسے بھی وہاں حکومتوں کا تختہ الٹا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک معمول کی بات ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے طالبان حکومت افغانستان پر افغانستان کے پاکستان سے پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کے ٹی ٹی پی کا شکار عوام کی کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف