جائز احتجاج قبول لیکن بدامنی اور ہنگامہ آرائی برداشت نہیں کی جائیگی، سید علی خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: شہدا کے خاندانوں سے گفتگو میں رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ غیر ملکی کرنسی کا مہنگا ہونا، بے حساب بڑھ جانا اور اس کا غیر مستحکم رہنا، یہ قدرتی بات نہیں ہے، یہ دشمن کا کام ہے، البتہ اس کو روکنا چاہیے، مختلف تدبیروں کے ساتھ کوشش ہو رہی ہے، صدر بھی اور دوسرے اداروں کے سربراہان بھی اور کچھ دوسرے ذمہ دار بھی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مسئلہ درست ہو جائے۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے واضح فرمایا کہ لہٰذا تاجروں کا احتجاج اسی بات پر تھا اور یہ بات درست ہے، اہم مسئلہ یہ ہے کہ کچھ دشمن کے بھڑکائے، اکسائے ہوئے اور کرائے کے لوگ تاجروں کے پیچھے کھڑے ہو جائیں اور اسلام کے خلاف، ایران کے خلاف اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائیں، یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ خصوصی رپورٹ:
ہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے 13 رجب کی صبح جنگِ 12 روزہ کے شہداء کے خاندانوں سے ملاقات میں حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سب سے پہلے تو تجارت اور کاروباری طبقہ، اسلامی نظام اور اسلامی انقلاب کے سب سے وفادار طبقوں میں سے ہے، ہم ایرانی تاجر کو اچھی طرح جانتے ہیں، کاروبار کے نام پر اسلامی جمہوریہ اور اسلامی نظام کے خلاف کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ ہاں، یہ اجتماعات زیادہ تر تاجروں ہی کی طرف سے تھے، ان کی بات درست تھی، جب ایک تاجر یا دکاندار دیکھتا ہے کہ ملکی کرنسی کی قیمت کم ہو رہی ہے، ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں، اور اس وجہ سے کاروبار کا ماحول ٹھیک نہیں رہتا تو وہ کہتا ہے کہ میں کاروبار نہیں کر سکتا، اور وہ درست کہتا ہے، ملک کے ذمہ دار بھی یہ بات مانتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایران کے صدر اور دوسرے اعلیٰ حکام اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک مسئلہ ہے اور اس میں دشمن کا ہاتھ بھی شامل ہے۔
تاجروں کی پریشانی اور جائز احتجاج پر گفتگو:
رہبرِ معظم انقلاب اسلامی نے زور دے کر فرمایا کہ غیر ملکی کرنسی کا مہنگا ہونا، بے حساب بڑھ جانا اور اس کا غیر مستحکم رہنا، یہ قدرتی بات نہیں ہے، یہ دشمن کا کام ہے، البتہ اس کو روکنا چاہیے، مختلف تدبیروں کے ساتھ کوشش ہو رہی ہے، صدر بھی اور دوسرے اداروں کے سربراہان بھی اور کچھ دوسرے ذمہ دار بھی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مسئلہ درست ہو جائے۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے واضح فرمایا کہ لہٰذا تاجروں کا احتجاج اسی بات پر تھا اور یہ بات درست ہے، اہم مسئلہ یہ ہے کہ کچھ دشمن کے بھڑکائے، اکسائے ہوئے اور کرائے کے لوگ تاجروں کے پیچھے کھڑے ہو جائیں اور اسلام کے خلاف، ایران کے خلاف اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائیں، یہ بات اہم ہے، احتجاج جائز ہے لیکن احتجاج اور ہنگامہ آرائی ایک چیز نہیں، ہم اعتراض کرنیوالے سے بات کرتے ہیں لیکن ہنگامہ کرنے والے سے بات کرنے کا فائدہ نہیں، ہنگامہ کرنے والے کو اس کی پاداش ملنی چاہیے۔
آپ نے یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ کچھ لوگ تاجروں کا فائدہ اٹھا کر ملک کو غیر محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور یہ قابل قبول نہیں، فرمایا کہ یہ بالکل قابل قبول نہیں کہ کچھ لوگ مختلف ناموں اور عنوانوں سے آئیں، توڑ پھوڑ کریں، ملک میں بدامنی پھیلائیں، مومن، سالم اور انقلابی تاجروں کے پیچھے کھڑے ہوں، ان کے احتجاج سے فائدہ اٹھائیں اور ہنگامہ کریں، یہ بالکل بھی قبول نہیں، ہرگز نہیں۔ رہبرِ معظم انقلاب نے فرمایا کہ دشمن کے کام کو سمجھنا چاہیے، دشمن آرام سے نہیں بیٹھتا اور ہر موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے، یہاں انہوں نے دیکھا کہ موقع ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہا، ہمارے ذمہ دار میدان میں تھے اور رہیں گے، لیکن اصل چیز پوری قوم ہے، اصل چیز وہی عوامل ہیں جنہوں نے سلیمانی کو سلیمانی بنایا یعنی ایمان، اخلاص، عمل۔ اصل چیز دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابل غافل نہ ہونا ہے، دشمن کی افواہوں کے مقابل بے پروا نہ ہونا ہے، یہ چیزیں اہم ہیں۔
سیرت امیرالمومنین علیہ السلام کے متعدد پہلو:
انہوں نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان محسوس کرے کہ دشمن مطالبہ کرنے کے انداز میں کوئی بات ملک پر، ذمہ داروں پر، حکومت پر اور قوم پر تھوپنا چاہتا ہے تو پوری طاقت سے دشمن کے مقابل کھڑے ہوں، سینہ سپر کرے، ہم دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم خدا پر بھروسہ کرکے اور عوام کی حمایت پر یقین رکھ کر ان شاء اللہ خدا کی مدد سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ آپ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی عدالت اور تقویٰ کو ملک کی دو ضروری چوٹیوں اور معاشرے کو چلانے کے لیے سب سے لازمی صفات قرار دیا اور دشمنوں کی "نفسیاتی جنگ" کے مقابل ہوشیاری اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ جنگ جو "فریب، جھوٹ، بہتان اور افواہ" پر مبنی ہے، وہی جنگ ہے جسے حضرت علیؑ کے دشمنوں نے میدانِ جنگ میں شکست کے بعد شروع کیا تھا تاکہ ان کے مقاصد پورے نہ ہونے دیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولادت کے دن اور جائے ولادت یعنی خانۂ خدا اور خود اس مولود کی وجہ سے، تاریخ کا ایک خاص دن قرار دیا اور فرمایا کہ آپؑ کی بے مثال خصوصیات میں سے آج ہمیں دو خصوصیات یعنی "عدل اور تقویٰ" کی زیادہ ضرورت ہے، اور ہمیں متقیوں کے پیشوا کو نمونہ بنا کر ان دو چوٹیوں کی طرف بڑھنا چاہیے جن پر حضرت امیر علیہ السلام کھڑے ہیں، البتہ اس راستے میں ہمیں کچھ کامیابیاں ملی ہیں لیکن جہاں تک پہنچنا چاہیے وہاں تک ابھی فاصلہ ہے۔ رہبرِ انقلاب نے عدالت قائم کرنے کے لیے حضرت علیؑ کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت علیؑ کبھی عدالت کو "مہربانی، کمزوروں اور بے سہارا خاندانوں کی خدمت" کے ذریعے نافذ کرتے تھے، کبھی "ذوالفقار اور الٰہی سختی" کے ساتھ، اور کبھی "واضح زبان، حکمت اور سمجھانے" کے ذریعے۔
آپ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو "جہادِ تبیین" کی بنیاد قرار دیا اور فرمایا کہ حضرت علیؑ کا مالک اشتر کے نام حکومتی فرمان ایسے مفاہیم سے بھرا ہوا ہے جو عدالت کے لئے رہنما اصول ہیں۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تقویٰ کے بارے میں امام علیؑ کی سیرت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کبھی تقویٰ کو عبادت کے محراب، نماز اور خدا کے حضور گڑگڑانے میں ظاہر کرتے تھے اور عرش کے فرشتے حیران اور رشک میں مبتلا ہو جاتے تھے، کبھی مسلمانوں کی وحدت بچانے اور اختلاف کو روکنے کے لیے صبر، خاموشی اور اپنے حق سے گزر جانے کے ذریعے اس پر عمل کرتے تھے اور کبھی سخت موقعوں میں سینہ سپر کر کے، جیسے لیلۃ المبیت اور رسول خدا ﷺ کی جنگوں میں۔ آپ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ عوام اور خاص طور پر ذمہ داروں کے لیے حضرت امیر کے تقویٰ والے طریقوں پر چلنا ضروری ہے۔
آپ نے فرمایا کہ علوی عدالت بھی ملک کی سب سے لازمی اور سنجیدہ ضرورت ہے، اور آج ہم، تاریخ میں شیعہ اصول کے برعکس، عدالت کی پیروی نہ کرنے یا اسے نافذ نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں رکھتے کیونکہ حکومت "اسلامی جمہوریہ اور علوی نظام" ہے۔ رہبرِ انقلاب نے عدالت اور تقویٰ کے راستے میں رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کبھی ڈر، کبھی شک، کبھی دوستیوں کا خیال اور کبھی دشمن کا خوف انسان کو روک دیتا ہے، لیکن بلاوجہ کی مصلحتوں کے بغیر ہمیں عدل اور تقویٰ کو آگے بڑھانا چاہیے۔ آپ نے قوم اور ذمہ داروں کی توجہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم نکتے کی طرف دلائی اور فرمایا کہ دھیان رہے کہ متقیوں کے پیشوا، رسول خدا ﷺ کے زمانے کی تمام جنگوں میں اور اپنے دورِ حکومت میں بھی ہمیشہ فاتح تھے، لیکن شکست خوردہ دشمنوں کے مختلف فریب اور لوگوں کو کمزور کرنے کے طریقے کئی مواقع پر حضرت علیؑ کے مقاصد کے پورا ہونے میں رکاوٹ بنے۔
دشمن کے نفسیاتی حربوں کے خلاف قوم کے حوصلہ مند ہونیکی تعریف:
رہبرِ انقلاب نے افواہیں پھیلانا، جھوٹ، فریب، نفوذ اور ایسے ہی طریقے، یعنی آج کی زبان میں "جنگ نرم" کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دشمنوں کی پالیسی قرار دیا، جس کا مقصد اس دور کے معاشرے میں لوگوں کو بے دل اور شک میں مبتلا کرنا تھا، اور فرمایا کہ جب عوام کمزور پڑ جائیں تو اہداف پورے ہونا ناممکن ہو جاتا ہے، کیونکہ خدا کے قانون کے مطابق کام عوام کے ہاتھ سے ہوتا ہے اور انہی کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمن کا مقصد نفسیاتی جنگ میں عوام کو بے دل اور ناامید کرنا اور قوم کے دلوں میں شک پیدا کرنا ہے، اور جیسے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور میں افواہ سازی اور جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو بدگمان کیا جاتا تھا، آج بھی وہی کام بالکل اسی طرح ہو رہا ہے، البتہ ایرانی قوم نے دکھایا ہے کہ سخت میدانوں میں اور جہاں بھی اس کی موجودگی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے، وہ مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے اور دشمن کو مایوس کر دیتی ہے۔
26 سالہ نوجوان خلائی سائنسدانوں کو خراج تحسین:
آپ نے ایرانی قوم کے مضبوط حوصلے کو دشمنوں کی پریشانی کی وجہ قرار دیا اور فرمایا کہ نفسیاتی جنگ میں دشمن اور کچھ غلط یا غافل افراد کا ایک ہتھیار یہ ہے کہ وہ قوم کی کامیابیاں اور صلاحیتیں ہی نہیں مانتے، کیونکہ قومی صلاحیتوں سے غفلت دشمن کے سامنے ذلت اور جھک جانے کا راستہ بنا دیتی ہے۔ آپ نے ایک ہی دن میں تین سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے اور مختلف سائنسی شعبوں میں ملک کی حیرت انگیز ترقیات جیسے فضائی و خلائی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، طب، علاج، نینو، دفاعی صنعتوں اور میزائل پروگرام کو ایرانی قوم اور قابل نوجوانوں کے بڑے کاموں کی مثالیں قرار دیا اور فرمایا کہ دشمن اور افسوس کہ اندر کے کچھ لوگ بھی، ان بڑی ترقیات کو جو پابندیوں کے حالات میں حاصل ہوئی ہیں، چھپاتے ہیں اور لوگوں تک نہیں پہنچاتے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمن نے جنگ روکنے کی درخواست کیوں کی اور بعد میں پیغام کیوں دیا کہ ہم آپ سے جنگ نہیں چاہتے؟ اس کی وجہ ایرانی قوم کی طاقت اور صلاحیت ہے؛ البتہ ہم دشمنِ خبیث، فریب کار اور جھوٹے کی بات پر کوئی اعتماد نہیں کرتے۔ آپ نے حالیہ تین سیٹلائٹ لانچ میں شامل سائنس دانوں کی اوسط عمر 26 سال ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے ایرانی قوم کے انسانی سرمائے کی بڑی دولت قرار دیا اور فرمایا: پھر وہ بکواس کرنے والا امریکی جب ایرانی قوم کے بارے میں بات کرتا ہے تو تھوڑا برا بھلا کہتا ہے اور تھوڑا فریب اور وعدے دیتا ہے؛ لیکن شکر ہے کہ آج ایرانی قوم بلکہ پوری دنیا نے امریکہ کو پہچان لیا ہے اور اس کی رسوائی دنیا بھر میں ظاہر ہو چکی ہے۔ رہبرِ انقلاب نے دشمن کی صحیح پہچان کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور فرمایا: عوام نے جنگِ 12 روزہ میں خود امریکہ کی حقیقت دیکھ لی۔ حتیٰ وہ لوگ جو ملک کے مسائل کا حل امریکہ سے مذاکرات کو سمجھتے تھے، انہیں بھی معلوم ہو گیا کہ مذاکرات کے دوران ہی امریکی حکومت جنگ کا نقشہ تیار کر رہی تھی۔
مہنگائی کیخلاف جائز احتجاج کے بہانے دشمن کی نفسیاتی چالوں کے بارے میں احتیاط کی ہدایت:
آپ نے نرم جنگ، شکوک پھیلانے اور افواہیں بنانے سے خبردار رہنے کو ضروری قرار دیا اور اربوں ڈالر خرچ کر کے ٹی وی چینلز اور اطلاعاتی مراکز کے ذریعے ایران کے اندر جھوٹ پھیلانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد ملک کو کمزور کرنا اور جنگِ 12 روزہ میں قوم کے معجزہ نما اتحاد کو توڑنا ہے۔ اس لیے سب سے اہم مسئلہ دشمن کی دشمنی کو سمجھنا اور اندرونی اتحاد و اتفاق ہے، اور قرآن کی تعبیر کے مطابق کہ کافروں کے مقابل سخت اور آپس میں مہربان ہونا ہے۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں گزشتہ ہفتے تاجروں کے اجتماعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بازار اور تاجر طبقہ نظام اور انقلاب اسلامی کے سب سے وفادار طبقوں میں سے ہیں اور ہم انہیں خوب جانتے ہیں، لہٰذا بازار اور بازاری کے نام پر اسلامی جمہوریہ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
شہید سلیمانی سننے جاننے بولنے کی بجائے اقدام کرنیوالوں میں سے تھے:
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں شہیدِ عالی مقام حاج قاسم سلیمانی کی برسی کے 13 رجب کے ساتھ ہم زمانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تین خصوصیات یعنی "ایمان"،"اخلاص" اور "عمل" اُس عزیز شہید کی بنیادی خصوصیات تھیں، اور وہ ہمارے زمانے میں ایک جامع اور کامل انسان شمار ہوتے تھے۔ آپ نے پروردگار پر گہرے ایمان، الٰہی مدد و نصرت پر یقین، اور مقصد پر ایمان کو سردارِ دلوں کی نمایاں خصوصیت قرار دیا اور مزید فرمایا کہ حاج قاسم ایک خالص خدا والے انسان تھے اور وہ نیک نامی یا دوسروں کی تعریف و ستائش حاصل کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔
رہبرِ انقلاب نے سردار سلیمانی کی تمام ضروری میدانوں میں موجودگی کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ وہ بعض لوگوں کی طرح نہیں تھے جو بات خوب سمجھتے ہیں اور اچھی تقریر بھی کرتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے؛ بلکہ جہاں بھی ضرورت ہوتی وہ وہاں موجود ہوتے تھے؛ چاہے کرمان میں انقلاب کی تحریک کو محفوظ رکھنے اور اس کی رہنمائی کرنے کی بات ہو یا شرارتوں کا مقابلہ کرنا ہو، نیروی قدس میں خدمات ہوں، حرم کا دفاع ہو، داعش کے خلاف جدوجہد ہو یا دوسرے میدان۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے خطے کے انتہائی حساس اور اہم سیاسی معاملات میں سردار کے واضح اور بعض اوقات بے مثال اثر و کردار کی طرف اشارہ فرمایا کہ حاج قاسم اپنے ساتھیوں اور ماتحت افراد کی تربیت اور پرورش پر خاص توجہ دیتے تھے
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شہید قاسم سلیمانی کی ان خصوصیات کی وجہ سے ان کا مزار ہر سال زیادہ مقدس اور محترم ہوتا جا رہا ہے اور دور دراز علاقوں بلکہ دوسرے ممالک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ ان کے مزار کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ رہبرِ انقلاب نے ملاقات میں 12 روزہ جنگ کے شہداء کے خاندانوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نشست دفاعِ مقدس کی 12 روزہ جنگ کے تمام شہداء اور ان کے خاندانوں کی تعظیم، تکریم اور خراجِ عقیدت کے لیے منعقد کی گئی ہے، چاہے وہ جہاد و شہادت کے مشتاق کمانڈر ہوں، باصلاحیت سائنس دان ہوں یا دوسرے شہداء۔ آپ نے تاکید کی کہ ان تمام شہداء کے نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور ہمیں ان مبارک ناموں کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیرالمؤمنین علیہ السلام حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ فرمایا کہ دشمن انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ نفسیاتی جنگ کے خاندانوں اور اسلامی ملکی کرنسی ایرانی قوم انقلاب نے تاجروں کے کے ذریعے کرتے تھے حضرت علی اور تقوی ایران کے کے مقابل سے فائدہ یہ ہے کہ کے خلاف دشمن کے دشمن کا بھی اور کے ساتھ نہیں کر ہیں اور کھڑے ہو تھے اور دشمن کی کرنے کے اور ان کے نام یہ بات کہ کچھ ہے اور کی وجہ قوم کے کے لیے اور اس
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔