کراچی میں ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘نمائش کا شاندار آغاز‘حافظ نعیم الرحمن نے افتتاح کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260104-01-10
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے سجائی گئی 2روزہ نمائش ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ نمائش کا افتتاح امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ نمائش نہ صرف کاروباری سرگرمی ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کی بحالی اور مظلومین غزہ کے ساتھ عملی یکجہتی کی ایک تحریک بن گئی ہے۔نمائش میں ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، فوڈ انڈسٹری اور گھریلو مصنوعات کے سیکڑوں اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ایسے ایونٹس چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور روپیہ مستحکم ہوتا ہے۔نمائش کے پہلے ہی روز عوام کا جم غفیر امڈ آیا۔ شہریوں، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں نے مقامی اسٹالز میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ انہیں یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان میں اتنی اعلیٰ معیار کی اشیاء تیار ہو رہی ہیں جو قیمت میں بھی مناسب ہیں۔نمائش میں بچوں کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا ہے جبکہ کھانے پینے کے اسٹال بھی بڑی تعداد میں لگائے گئے تھے، جس میں مناسب قیمت پر اشیا دستیاب تھیں۔
اسٹاف رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔