2025 ء : دنیا بھرمیں 128 صحافی ہلاک ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے کہا ہے کہ 2025 ء میں دنیا کے طول و عرض میں 128 صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ ہلاکتیں مشرق وسطیٰ میں ہوئیں۔ آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلونزے نے بتایاکہ 2024 ء سے لے کر اب تک کی یہ سنگین تعدادصرف ایک عدد نہیں ہے بلکہ ہمارے ساتھیوں کے لیے عالمی سطح پر شدید خطرے کی علامت ہے۔ پریس گروپ نے فلسطینی علاقوں کی صورتِ حال کے حوالے سے خصوصی خطرے کی گھنٹی بجائی جہاں اس نے 2025 ء میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران 56 میڈیا پروفیشنلز کی ہلاکتیں ریکارڈ کیں۔ بیلونزے نے کہاکہ ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھاکہ اتنے کم وقت میں اور اتنے مختصر علاقے میں اتنی زیادہ اموات ہوئی ہوں۔ یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو، بھارت اور دیگر مقامات پر بھی صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ بیلونزے نے کہا کہ انصاف نہ ہو اتو صحافیوں کے قاتل آزادانہ گھومتے رہتے ہیں گے۔ آئی ایف جے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 533 صحافی جیل میں ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ نصف عشرے کے دوران دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ چین ایک بار پھر رپورٹرز کے بدترین جیلر کے طور پر سرِفہرست ہے جس میں 143 سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ کے حکام کو مغربی ممالک نے اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے قومی سلامتی کے قوانین نافذ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اعدادوشمار کے مختلف طریقوں کی وجہ سے ہلاک شدہ صحافیوں کی تعداد آئی ایف جے کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ ہے جو عموماً رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے فراہم کی ہیں۔ اس سال آئی ایف جے کی تعداد میں 9حادثاتی اموات بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 67 صحافی ہلاک ہوئے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایف جے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک