data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260104-01-11
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میرا برانڈ پاکستان کا سفر بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ، گزشتہ سال لاہور میں بھی میرا برانڈ پاکستان نمائش ہوئی، جماعت اسلامی کے اجتماع عام جو پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اجتماع تھامیں بھی میرابرانڈ پاکستان کا ایک بازار سجایا گیا تھا،حکمران طبقہ جنریشن زی سے خوفزدہ ہے ،جنریشن زی کو ہم حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ، جماعت اسلامی کے علاوہ جنریشن زی کو کوئی نہیں سنبھال سکتا۔ اس وقت پاکستان میںجنریشن زی کا سب سے کامیاب اور بڑاپروگرام الخدمت فری آئی ٹی کورسز کاپروجیکٹ ’’بنو قابل ‘‘ہے ،جس کے تحت اب تک 12لاکھ سے زائد طلبا و طالبات رجسٹر ہوچکے ہیں، جو کراچی سے شروع ہوکرپورے پاکستان میں پھیل چکاہے ،280کمپنیز اور 700برانڈزکی شاندارنمائش کے انعقاد پر میںبزنس فورم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،اسرائیل کی جارحیت ودہشت گردی کی وجہ سے دنیا بھر میں صیہونی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ مہم چلنا شروع ہوئی ،اس بائیکاٹ مہم کے ساتھ ہمیں اپنی مصنوعات کو متبادل کے طور پرفروغ دینا چاہیے اس سے ہمارے ملک کی صنعتوںکو بھی فائدہ ہوگا، پاکستان کے صنعتکاروںکو چاہیے کہ اپنی مصنوعات کی کوالٹی بہتر اور قیمتیں کم سے کم کریں ، میرا برانڈ پاکستان سے جتنی بھی آمدنی ہوگی وہ سب فلسطین کی امداد کے لیے استعمال ہوگی ، اب تک جماعت اسلامی اور الخدمت اربوں روپے مالیت کی 40امدادی کھیپ غزہ روانہ کرچکی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کراچی چیپٹر کے تحت دو روزہ چوتھی میرا برانڈ پاکستان نمائش کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پربزنس فورم کراچی چیپٹر کے صدر سہیل عزیز ،سینئرنائب صدرفیڈریشن چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز ثاقب فیاض مگوں ،کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر جاوید بلوانی ،آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ ،جنرل سیکرٹری عامر رفیع نے بھی اظہار خیال کیا اور بزنس فورم کو مسلسل چوتھے سال میرا برانڈ پاکستان نمائش کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔حافظ نعیم الرحمن و دیگر مہمانوں نے نمائش کا دورہ اور مختلف اسٹالز کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ حکمرانوں کے خوف کا یہ عالم ہے کہ اخبار میں ایک کالم چھپا تو پریشان ہوگئے ، کالم کا جواب کالم سے ہونا چاہیے ، جبر کا نظام ختم کرنا ہوگا، لوگوں کو بولنے دیا جائے ، اس قوم کو آگے بڑھنے دیا جائے ، جمہوری قوتوں کا راستہ روکنا اور عوامی رائے کو کچلنابندکیا جائے ، اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی کی میئرشپ چھین کر اہل کراچی پر بہت بڑا ظلم کیا ہے،چوروںاور ڈاکوئوں کو ہمارے سروں پر لاکر بٹھادیا گیا،اپنے ارد گرد کے حالات سے سبق سیکھنا چاہیے، حالات بگڑ گئے تو ایسا نہ ہوکہ بہت سے لوگوں کو حسینہ واجد کی طرح ایئر لفٹ بھی نہ ملے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی میں انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے ،کوئی بھی منصوبہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کرپشن اور نااہلی کے نئے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیںاور کرپشن ریٹ 71فیصد تک ہے ، پیپلزپارٹی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے،کہاگیا کہ ہم سندھ سے سسٹم ختم کردیں گے لیکن اسی سسٹم کو اٹھا کر اسلام آبادمیں بٹھادیا گیا،ملک میںچہرے نہیں ظالمانہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی اور لاہور کے بعد اپریل میں اسلام آباد میں بھی میرا برانڈ پاکستان کی نمائش ہونے جارہی ہے ،جبکہ پشاور ،فیصل آباد ،گجرانوالہ میں بھی تیاریاں جاری ہیں، ہم اسے پورے عالم اسلام کا برانڈ بنانے کی کوششیں کررہے ہیں، جس میں مختلف اسلامی ممالک اپنے اپنے برانڈز لیکر آئیں گے ، ترکی ،ڈھاکہ ودیگر مسلم ممالک میں اس کے پروگرام کیے جائیں گے، یہ پروگرام ہمارے فلسطینی بھائیوںکی قربانیوںکے نتیجے میں شروع ہوا تھا ،80ہزار سے زائد ہمارے فلسطینی بزرگ ،بچے ،بہنیں ،نوجوان شہید ہوچکے ہیں، جنگ بندی کے باوجود اسرائیل سیکڑوں بار اس کی خلاف ورزی اور 1ہزار سے فلسطینیوں کو جنگ بندی کے بعد شہید کرچکا ہے ، اس صورتحال میں پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف غم وغصہ پھیل چکا ہے ،مسلم ممالک کے علاوہ دنیا بھر کے باضمیر انسانوں نے بھی اس کے خلاف زبردست احتجاج کیاہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیابھر میں فلسطین کی حمایت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ،مشہور ہالی وڈ اداکار جیکی چن نے ایک فلسطینی بچے سے پوچھا کہ تم بڑے ہوکر کیا بنو گے ؟ تو بچے نے جواب دیا کہ فلسطین میں بچے بڑے نہیں ہوتے ، اسرائیل کو اس کی جارحیت ودہشتگردی میں سب سے زیادہ حمایت اور مدد امریکہ کی حاصل ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کے حکمران اپنے اقتدا ر کے لیے ٹرمپ کی چاپلوسی میں لگے ہوئے ہیں۔سہیل عزیزنے کہا ہے کہ امریکی سرپستی میں اسرائیلی مظالم اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھرمیں اسرائیلی مصنوعات کی بائیکاٹ مہم شروع کی گئی ،اس مہم کو ہر سطح پر سراہا گیا اور پورے ملک میں سب یک زبان ہوکراس بات پرمتفق ہوئے کہ پاکستانی برانڈ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔پھرپہلی بار2023میں ایکسپوسینٹرمیں اس نمائش کا آغازکیا گیاآج چوتھا سال ہے اور 250سے زائد اسٹالزیہاں موجود ہیں،میں مبارکباد پیش کرتا ہوں تمام شرکت کرنے والوں کوجنھوں نے اس ایونٹ کو کامیاب بنایا،دوروزہ ایکسپوآج اورکل جاری رہی گی۔ثاقب فیاض مگوں نے کہاکہ چوتھی سالانہ نمائش میں 700پاکستانی برانڈزکی شرکت نمائش کی بہت بڑی کامیابی ہے،یہ حافظ نعیم الرحمان کا ویژن تھا جس پرعمل درآمد کیا گیاہے ،فیڈریشن اورچیمبرنے بھی اس کاز کوسپورٹ کیا،ہماری بہت سی ایسی مصنوعات ہیں جودنیا بھرمیں پاکستان کا برانڈ بن سکتی ہیں،پاکستان کے مصالحہ جات کوپوری دنیا میں آئی کون بنایا جاسکتا ہے۔پاکستانی مصنوعات باآسانی تمام غیرملکی مصنوعات کو شکست دے سکتی ہیں ،بائیکاٹ مہم کے دوران پاکستانی مصنوعات کو بطور متبادل اشیاء فراہم کرکے عوام و خواص کے لیے آسانی پیداکی گئی ہے جو لائق تحسین ہے ۔جاوید بلوانینے کہا کہ اگر حکمران پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو امپورٹ ،ایکسپورٹ اور زراعت کوآگے بڑھانا ہوگا ، مایوسی گناہ ہے ، ہمیں اپنا ملک کو چھوڑنے کے بجائے یہیں پر رہ کر حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا ،پاکستانی مصنوعات دنیا کی بہترین مصنوعات کا مقابلہ کرسکتی ہیں، میںجماعت اسلامی کو میرا برانڈ پاکستان جیسا بہترین پروگرام کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کی حوصلہ افزائی کریں، دنیا بھرکے مسلم ممالک کوبھی میرا برانڈ پاکستان جیسے رجحانات بنانے چاہیے ،میںجماعت اسلامی اورپاکستان بزنس فورم کو اپنے ہر طرح کے تعاون اور خدمات دینے کے لیے حاضر ہوں۔ احمد شاہ نے کہاکہ جب انڈیا کی کرنسی بہت گرگئی توانہوں نے وقتی طور پر ان ساری چیزوں کی امپورٹ پر پابندی لگادی جو ان کے ملک میں بنتی ہیںاور صرف وہ چیزیں امپورٹ کیں جو وہاں نہیںبنتی تھیں، میں پاکستانی برانڈزکو فروغ دینے پر جماعت اسلامی اور پاکستان بزنس فورم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستان سے باہر رہ کر پاکستان کو برا بھلا کہنے والوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان آئیں، حالات کا مقابلہ کریںاورپاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کرداراداکریں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میرا برانڈ پاکستان حافظ نعیم الرحمن خراج تحسین پیش جماعت اسلامی بزنس فورم کو پیش کرتا ہوں بائیکاٹ مہم پاکستان کے بھی میرا میں بھی کے خلاف کے لیے نے کہا

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان