ملک کے دفاع اور اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئےتیار ہیں، وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا: نائب صدر کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا ہے کہ ملک اپنے دفاع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔
امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد خطاب کرتے ہوئے ڈیلسی روڈریگز نے دعویٰ کیا کہ صدر مادورو کو اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے جائز صدر ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے صبر، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد وینزویلا اپنے دفاع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی تیاری رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اقتدار کی منتقلی تک امریکا وینزویلا کے امور سنبھالے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔
واضح رہے کہ فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف فوجداری الزامات عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، جس میں فضائی، زمینی اور بحری طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، اور اسے امریکی فوجی قوت کا ایک شاندار مظاہرہ قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔