امریکی طیارہ وینزویلا کے گرفتار صدر کو لےکر نیویارک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے حملے کے بعد گرفتار کیے گئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو لے جانے والا امریکی طیارہ نیویارک پہنچ گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وہ طیارہ، جس میں گرفتار وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ سوار تھے، نیویارک کے اسٹیورٹ ایئر نیشنل گارڈ بیس پر اترا۔ مادورو کو امریکی بوئنگ 757 طیارے کے ذریعے نیویارک منتقل کیا گیا، اور یہ پرواز اس دوران سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی فلائٹ رہی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نکولس مادورو کو بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں انہیں بروکلین کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
مادورو کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر حملہ کیا تھا، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے حراست میں لے لیا تھا۔
اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، جس میں متعدد طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل میں کی گئی تھی اور امریکا مزید کارروائی کے لیے بھی تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک