ریاستی اداروں پر الزامات کیس، وزیر اعلی کے پی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
عدالت نے سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا، کیس کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی گئی، سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہتکِ عزت کیس میں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی ہے، سینئر سول جج عباس شاہ نے سہیل آفریدی کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے عدم حاضری پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا، کیس کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی گئی، سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔