بلدیاتی نظام کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
منصورہ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو یقین ہو چکا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات نہیں جیت سکتی، اسی وجہ سے انتخابات کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہے اور اسے کمزور کرنا عوام کے حقِ حکمرانی پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 15 جنوری کو پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عوامی ریفرنڈم کیا جائے گا تاکہ عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچائی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے لاہور اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو عوام دشمن اقدام قرار دیا ہے۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو یقین ہو چکا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات نہیں جیت سکتی، اسی وجہ سے انتخابات کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہے اور اسے کمزور کرنا عوام کے حقِ حکمرانی پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 15 جنوری کو پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عوامی ریفرنڈم کیا جائے گا تاکہ عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچائی جا سکے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام بااختیار بلدیاتی نظام چاہتے ہیں جو نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنائے۔ نائب امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف تینوں جماعتیں بااختیار بلدیاتی نظام دینے میں ناکام رہی ہیں، جس کے باعث عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ خطاب کے اختتام پر لیاقت بلوچ نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ عوام میں شعور اجاگر کریں اور بلدیاتی نظام کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلدیاتی نظام لیاقت بلوچ انہوں نے کیا جا کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔