اقوامِ متحدہ کی قرارداد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی واضح اور غیر مبہم ضمانت ہے، غلام محمد صفی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق غلام محمد صفی نے آزاد جموں و کشمیر کے شہر باغ کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور کسی جبر یا دبائو کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ 5 جنوری 1949ء کو منظورشدہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی واضح اور غیر مبہم ضمانت ہے مگر بدقسمتی سے بھارت 78برس گزرنے کے باوجود اس عالمی وعدے سے مسلسل انحراف کرتا چلا آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق غلام محمد صفی نے آزاد جموں و کشمیر کے شہر باغ کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور کسی جبر یا دبائو کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے اس موقع پر کہا کہ بھارت کے ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین اور منظم پامالیوں اور غیر قانونی اقدامات کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے عملی اور موثر کردار ادا کرے۔
سابق کنوینر محمود احمد ساگر نے کہا کہ بھارت فوجی طاقت اور ظلم و جبر کے بل پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے جسے کسی صورت دبایا یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعجاز بیگ، جماعت اسلامی کے نمائندے خالد کھوکھر، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سردار طاہر اکبر اور ممتاز عالم دین مولانا عطااللہ شاہ نے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیمیں حقِ خودارادیت کے حصول کے لئے کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 5جنوری کو یومِ حقِ خودارادیت منانے کا بنیادی مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور اقوامِ متحدہ کو اس کی اپنی منظور شدہ قراردادوں کی یاد دہانی کرانا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ پریس کانفرنس میں باغ کی صحافتی برادری کی بڑی تعداد موجود تھی ۔صدر پریس کلب باغ سر اکمل عارف نے مہمان مقررین اور صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پریس کلب باغ ہمیشہ حق، سچ اور مظلوم عوام کی آواز کو اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کے غلام محمد صفی کرتے ہوئے کشمیر کے پریس کلب انہوں نے کہا کہ نے کہا کیا کہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔