شمیری 5 جنوری کو یوم حق خودارادیت منائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اس دن دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور دیگر پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ دنیا کی توجہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام استصواب رائے کا وعدہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کی طرف مبذول کرائی جائے۔ اسلام ٹائم۔ز کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 5 جنوری (پیرکو) یوم حق خودارادیت کے طور پر منائیں گے تاکہ عالمی برادری کو دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اس کی ذمہ داریاں یاد دلائی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق اس دن کو منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی ہے۔ اس دن مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور دیگر پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ دنیا کی توجہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام استصواب رائے کا وعدہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کی طرف مبذول کرائی جائے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949ء کو ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کے الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ اگر وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے تو مزید تاخیر کئے بغیر جموں و کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ عملی اقدامات کرے اور کشمیریوں کو مودی حکومت کی جارحیت سے بچائے۔ بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود عالمی ادارے نے کشمیریوں سے استصواب رائے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی عدم فعالیت سے کشمیریوں کو دبانے کے لیے وادی کشمیر، جموں اور لداخ خطوں میں تعینات 10لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔