شہید قاسم سلیمانی و ابو مہدی المہندس کی یاد میں منعقدہ "قادۃ النصر کانفرنس" کیساتھ خطاب میں عراقی صدر نے تاکید کی کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں نے ہی عراق کی موجودہ سلامتی، استحکام اور جمہوری عمل کی بنیاد رکھی ہے جبکہ اس عظیم میراث کا تحفظ ہماری قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے اسلام ٹائمز۔ فتح کے کمانڈروں شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی یاد میں منعقدہ "قادۃ النصر کانفرنس" کے ساتھ خطاب میں عراقی صدر عبداللطیف جمال رشید نے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا اور "خطرناک ترین دہشتگرد سوچ و تاریک ترین ذہنوں" کے مقابلے پر مبنی ان کے فیصلہ کن کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے تاکید کی کہ ان شہداء کی جانب سے اپنائے گئے تمام دلیرانہ موقف، آج وہ بنیاد بن چکے ہیں کہ جس پر یہ ملک موجودہ صورتحال میں استوار ہے۔ عبداللطیف جمال رشید نے دہشتگرد گروہوں بالخصوص داعش کے خلاف عراق کی فیصلہ کن جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتوحات فوج اور سکیورٹی فورسز سمیت فیلڈ کمانڈروں کی وسیع قربانیوں کے بغیر ممکن ہی نہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ تھی کہ جس نے نہ صرف پورے عراق کو سال 2014 سے ہی ایک گہرے بحران میں ڈال رکھا تھا بلکہ یہاں ریاست اور معاشرے کے وجود کو بھی شدید خطرات لاحق کر رکھے تھے۔

شہید ابومہدی المہندس کے بہادرانہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے عراقی صدر نے کہا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ صف اول پر رہے۔ عبداللطیف جمال رشید نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کے کردار کو بھی سراہا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم انتہائی احترام کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ انتہائی مشکل حالات میں عراق کے ساتھ آ کھڑے ہونے کے حوالے سے ہم اس عظیم شہید، جنرل قاسم سلیمانی کے دلیرانہ کردار کو کبھی نہ بھولیں گے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری قومی اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کریں.

. ان کی حفاظت کریں اور انہیں آئندہ نسلوں کے حافظے میں محفوظ کر جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس یادداشت کا تحفظ عراق کے قومی تشخص اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا ایک لازمی جزو ہے!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عبداللطیف جمال رشید قاسم سلیمانی کہا کہ

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟