شمالی کوریا نے اتوار کے روز بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے جس سے خطے اور دنیا بھر میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں کیے گئے جب جنوبی کوریا کے صدر اپنے سرکاری دورے پر چین پہنچ رہے ہیں، جو شمالی کوریا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا نے کم از کم دو بیلسٹک میزائل داغے جو سمندر میں جا گرے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل تقریباً 900 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جاپان نے بھی میزائل لانچ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک میزائل نے 950 کلومیٹر تک پرواز کی۔

ماہرین کے مطابق یہ میزائل تجربات چین کو پیغام دینے کی کوشش ہو سکتے ہیں تاکہ جنوبی کوریا کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو روکا جا سکے، جبکہ ساتھ ہی امریکا کی وینزویلا میں حالیہ فوجی کارروائی کے تناظر میں شمالی کوریا یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہے۔

جنوبی کوریا اور جاپان نے میزائل تجربات کی شدید مذمت کی ہے۔ سیول میں ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا اور شمالی کوریا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے اشتعال انگیز اقدامات بند کرے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ان میزائلوں سے فوری طور پر امریکا یا اس کے اتحادیوں کو کوئی براہِ راست خطرہ لاحق نہیں، تاہم صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ادھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حالیہ دنوں میں اسلحہ ساز فیکٹریوں کے دورے کیے ہیں اور ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آئندہ پارٹی کانگریس سے قبل طاقت کے مظاہرے کی کوشش ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کے شمالی کوریا

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا