پاک فضائیہ کا مقامی طور پر تیار جدید ترین تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
راولپنڈی+اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے+نمائندہ خصوصی )پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئے تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ کر لیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق تیمور ویپن سسٹم کا ایئر لانچڈ کروز میزائل 600 کلومیٹر تک کے فاصلے پر دشمن کے زمینی اور بحری اہداف کو نہایت درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روایتی وارہیڈ لے جانے کی اہلیت رکھتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جدید ترین نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس یہ میزائل انتہائی کم بلندی پر پرواز کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ دشمن کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام سے موثر طور پر بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی انتہائی درست حملہ آور صلاحیت پاکستان فضائیہ کی روایتی دفاعی طاقت اور عملی لچک میں نمایاں اضافہ کرتی ہے، جس سے ملک کے مجموعی دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب فلائٹ ٹیسٹ سے پاکستان کی دفاعی صنعت میں حاصل کی گئی تکنیکی پختگی، جدت اور خود انحصاری واضح ہوتی ہے، اس موقع پر پاکستان کی مسلح افواج کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ ممتاز سائنس دان اور انجینئرز بھی موجود تھے جنہوں نے اس جدید ویپن سسٹم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس شاندار کامیابی پر سائنسدانوں، انجینئرز اور پوری پاکستان فضائیہ ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت، انتھک محنت اور پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ ایسی کامیابیاں ٹیکنالوجی میں خود کفالت کے قومی عزم اور بدلتے ہوئے علاقائی سکیورٹی ماحول میں ایک قابلِ اعتبار روایتی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کی عکاس ہیں۔پاک فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ پاکستان فضائیہ کی عملی تیاری، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کی مسلسل کوششوں کی واضح مثال ہے۔ دوسری جانب صدرِ مملکت، وزیراعظم نے پاک فضائیہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری قومی صلاحیت، عزم اور ادارہ جاتی مہارت کی واضح عکاس ہے، یہ کامیابی قومی دفاع میں خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم پیشرفت ہے، دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے۔صدرِزرداری اور سپیکر ایاز صادق نے پاک فضائیہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری قومی صلاحیت، عزم اور ادارہ جاتی مہارت کی واضح عکاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مقامی طور پر تیار تیمور ویپن سسٹم پاک فضائیہ فضائیہ کی نے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔