افسران کے "جسٹس آف پیس" کے اختیارات سے حکمران فائدہ اٹھائینگے، بی این پی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں بی این پی نے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات کی فراہمی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ افسران کے اختیارات کو حکمران اپنے ذاتی مفاد اور مخالفین کو زیر کرنے کیلئے استعمال کر سکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ضلعی انتظامیہ کو نوٹیفکیشن کے ذریعے آرٹیکل 22 اے اور 22 بی کے اختیارات تفویض کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس کے اختیارات انتظامیہ کو دینا عدلیہ پر حملہ ہے۔ ماضی میں بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات تحصیلداروں کو دینے کے اقدام کو بلوچستان ہائی کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ فارم 47 کے حکمران آئے روز سابقہ ادوار کی طرح نت نئے تجربے کرکے حالات کو مزید ابتر کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو دو متوازی حصوں میں تقسیم کرنے سے انتشار اور آئینی تضاد جنم لے گا۔
انکا کہنا تھا کہ حالیہ نوٹیفکیشن کے تحت دیئے جانے والے اختیارات کو حکمران اپنے ذاتی مفاد اور مخالفین کو زیر کرنے کیلئے استعمال کر سکیں گے، جو کسی بھی طرح آئین کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کو تجربہ گاہ بنانے کے بجائے، مسائل کے حل کیلئے اقدمات کئے جائیں۔ سیاسی انجینئرنگ، نت نئے تجربات سے پہلے ہی نوجوانوں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ جہاں سے ان کی واپسی بہت مشکل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں ڈھائے جانے والے مظالم سے بلوچستانی عوام میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں، جن کو ختم کرنا ممکن نہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر نوٹیفکیشن کو واپس لیتے ہوئے آئین کی روح کے مطابق بلوچستانی عوام کو انسانی حقوق کی فراہمی، آزادانہ نقل و حرکت، روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں کہا گیا ہے کہ کے اختیارات
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔