برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ فضائی حملہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ رائل ایئر فورس کے طیاروں نے فرانس کے ساتھ مل کر شام میں ایک زیرِ زمین تنصیب پر فضائی حملہ کیا جو ممکنہ طور پر دہشت گرد تنظیم داعش اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خطے میں داعش ایک عرصے کی خاموشی کے بعد دوبارہ سرگرم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق، یہ حملہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حملے کا ہدف بننے والا علاقہ قدیم شہر پالمیرا کے شمال میں واقع تھا اور وہاں کوئی شہری آبادی موجود نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں داعش کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، داعش سے وابستہ 350 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار
ادھر امریکی فوج نے گزشتہ ماہ دسمبر کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اس نے 9 دنوں کے دوران شام میں داعش کے تقریباً 25 جنگجوؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کو جاری بیان میں ان کارروائیوں کے اختتام کی تصدیق کی۔
یہ امریکی کارروائیاں 13 دسمبر کو شام میں داعش کے حملے میں 2 امریکی فوجیوں اور ایک سویلین مترجم کی ہلاکت کے بعد کی گئیں، جس کے 6 دن بعد داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ترکیہ نے بھی داعش کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ ترک حکومت کے مطابق، ملک بھر میں کیے گئے چھاپوں کے دوران 125 مشتبہ داعش افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں 25 صوبوں میں عمل میں آئیں، جن میں دارالحکومت انقرہ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں کرسمس تقریبات کو نشانہ بنانے کی داعش سازش ناکام، 115 افراد گرفتار
یہ کارروائی ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں تیسری بڑی مہم ہے۔ اس سے قبل منگل کو شمال مغربی شہر یالووا میں ترک پولیس اور داعش کے مشتبہ ارکان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار اور چھ داعش جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ اگلے ہی دن سیکیورٹی فورسز نے مزید 357 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانیہ حملہ داعش شام فرانس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ حملہ میں داعش کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔