وزیرداخلہ کا منی لانڈرنگ، جعلی ادویات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے منی لانڈرنگ، جعلی ادویات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اےکراچی زون کا دورہ کیا، اس دوران ایف آئی اے کراچی زون اور ساؤتھ زون کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں محسن نقوی نے منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیا، کہا کہ بڑے منی لانڈرز پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے اور منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کی پوری منی ٹریل بے نقاب کی جائے، حوالہ ہنڈی کا کاروبارکسی صورت برداشت نہیں، بلاامتیاز ایکشن نظرآنا چاہیے۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
وزیرداخلہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس مافیا کیخلاف مؤثر کارروائی کا حکم بھی دیا، کہا کہ معصوم لوگوں کو جھانسہ دےکرباہربھجوانے والے رتی بھر رعایت کے مستحق نہیں، بغیر دباؤ ایجنٹس مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کراچی زون میں انسانی وسائل کی کمی ترجیحی بنیادپردورکی جائےگی، تمام ضروری وسائل دیں گے،کارکردگی سے ادارے کی نیک نامی بڑھانی ہے۔
پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ
اجلاس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 4 ماہ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث 20 ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا، 140 ملین روپے کی نان کسٹم مصنوعات اور ڈرگز ضبط کی گئیں، مسافروں کی سہولت کیلئے کراچی ائیر پورٹ پر سہولت سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث محسن نقوی نے منی لانڈرنگ کراچی زون ایف آئی کہا کہ کا حکم
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔