تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی کانفرنس میں شرکت سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
قومی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے مجوزہ قومی کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان سے رابطہ کیا گیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی مذاکراتی کمیٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کو باضابطہ طور پر قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن تحریک کی قیادت نے اس دعوت کو قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کو آج ہی دعوت نامہ موصول ہوا، جس کے بعد مشاورت کے بعد کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ ذرائع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مذاکرات کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کو دیا ہے اور واضح ہدایات ہیں کہ تمام سیاسی مذاکرات اسی پلیٹ فارم کے تحت کیے جائیں گے، تحریک کا ماننا ہے کہ مذاکرات کسی الگ فورم کے بجائے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہی ہونے چاہئیں۔
ادھر قومی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ قومی کانفرنس 7 جنوری کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی، جس میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی پاکستان کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایم کیو ایم، ق لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ قومی مذاکراتی کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد ملک کو درپیش سیاسی اور آئینی مسائل پر وسیع تر مشاورت اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل تحریک تحفظ آئین پاکستان قومی مذاکراتی کمیٹی کانفرنس میں شرکت قومی کانفرنس پاکستان کو کیا گیا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔