بنگلہ دیش میں نئے آرڈیننس سے ہزاروں ٹریول ایجنٹس بےروزگار ہونے کا خطرہ، تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کی ٹریول انڈسٹری کے رہنماؤں نے حکومت کے نئے آرڈیننس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نفاذ سے ملک بھر میں تقریباً 5 ہزار ٹریول ایجنسیاں بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ کاروبار دشمن ہے اور ٹریول سیکٹر کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ٹریول ایجنسی رجسٹریشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2026، جو یکم جنوری کو جاری کیا گیا، میں لائسنسنگ اور آپریشنز کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق یہ قواعد چھوٹی اور درمیانی درجے کی ایجنسیوں کو شدید متاثر کریں گے، جو بنگلہ دیش کی ٹریول مارکیٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار اور توحید حسین کا رابطہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
ایسوسی ایشن آف ٹریول ایجنٹس آف بنگلہ دیش کے سابق صدر منظور مرشد محبوب نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی کئی نئی شقیں معمول کی کاروباری سرگرمیوں کو تقریباً ناممکن بنا دیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک شق کے تحت ٹریول ایجنسیوں کو آپس میں ہوائی ٹکٹ خریدنے اور فروخت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تقریباً 5,800 رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیاں ہیں، جن میں سے صرف 800 کے قریب حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ باقی ایجنسیاں بڑی ایجنسیوں کے ذریعے ٹکٹ جاری کرواتی ہیں۔ اس عمل پر پابندی لگنے سے یہ ایجنسیاں اپنے سیلز اہداف پورے نہیں کر پائیں گی اور بالآخر بند ہو جائیں گی۔
ایک اور شق کے تحت غیر رجسٹرڈ ایجنسیوں کو 10 لاکھ ٹکا کی بینک گارنٹی جمع کرانا ہوگی۔ ٹریول انڈسٹری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر چھوٹی ایجنسیاں یہ بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع
تقریب سے خطاب کرنے والوں نے اس پابندی پر بھی تنقید کی جس کے تحت ریکروٹنگ ایجنسیوں اور ٹریول ایجنسیوں کو ایک ہی پتے پر کام کرنے سے روکا گیا ہے، حالانکہ یہ طریقہ بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کے اخراجات کم کرنے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند افراد کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
ٹریول انڈسٹری کے رہنماؤں نے اس شق پر بھی اعتراض اٹھایا جس میں حکام کو بغیر پیشگی سماعت کے ایجنسیوں کے لائسنس معطل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اختیارات کے غلط استعمال اور بھاری مالی نقصانات کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے سخت سزاؤں کی بھی مخالفت کی، جن کے تحت قید کی مدت بڑھانے اور جرمانے 10 لاکھ ٹکا تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ٹریول سیکٹر کے نمائندوں نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آرڈیننس واپس لیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو ہزاروں ملازمتیں اور ان سے وابستہ خاندانوں کا روزگار شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ٹریول ایجنٹس رجسٹریشن روزگار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ٹریول ایجنٹس روزگار کا کہنا ہے کہ ایجنسیوں کو بنگلہ دیش کے لیے کے تحت
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب