امریکا کی وینزویلا پر حملے کے بعد مزید کئی ملکوں کے سربراہان کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
امریکا کی وینزویلا پر حملے کے بعد مزید کئی ملکوں کے سربراہان کو دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز)وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کو اٹھائے جانے کے بعد لاطینی امریکا کے دیگر ممالک میں بھی کارروائیوں کے امکانات بڑھ گئے، اسی تناظر میں کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک سخت اور غیر معمولی انتباہ موصول ہوا ہے۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے صدر کو محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ کولمبیا سے منشیات تیار ہو کر امریکہ پہنچ رہی ہیں۔کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ردعمل میں امریکہ کی وینزویلا میں کارروائی کو لاطینی امریکہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔گستاوو پیٹرو اس سے قبل بھی کیریبین میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں، ان تعیناتیوں کو امریکی حکومت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی قرار دیتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کولمبیا میں منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریوں پر حملوں کے امکان کو رد نہیں کریں گے، ان کے اس بیان کو کولمبیا کے صدر نے ممکنہ جارحیت اور مداخلت کا اشارہ قرار دیا۔لاطینی امریکہ کے بارے میں وسیع تر امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مغربی نصف کرے میں امریکی برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھنے دیا جائے گا، امریکا اپنے اردگرد مستحکم اور اچھے ہمسایہ ممالک چاہتا ہے، جبکہ وینزویلا کے توانائی کے ذخائر کو بھی انہوں نے امریکا کے لیے اہم قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کو اپنے ہی ملک پر فوجی حملے کی دعوت دینے والی وینزویلا کی مغرب نواز نوبل انعام یافتہ اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا کی مقبولیت اور اندرونی حمایت پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ ان کے لیے ملک کی قیادت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا کہ کیوبا بھی مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، اگر وہ ہوانا میں حکومت کا حصہ ہوتے تو کم از کم تشویش ضرور محسوس کرتے۔
خیال رہے کہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کی تاریخ مداخلتوں اور کشیدگی سے بھری رہی ہے، جن میں 1961 کا بے آف پگز حملہ بھی شامل ہے۔صدر ٹرمپ نے میکسیکو کے حوالے سے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام ایک اچھی خاتون ہیں، مگر ان کے بقول ملک پر منشیات کے کارٹلز کا اثر و رسوخ ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ وہ کئی بار میکسیکو کو کارٹلز کے خلاف امریکی مدد کی پیشکش کر چکے ہیں، مگر میکسیکو کی قیادت نے اس سے انکار کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے ایران میں بھی مداخلت کا عندیہ دے چکے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسئلہ کشمیر تقسیمِ پاک و ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق مسئلہ کشمیر تقسیمِ پاک و ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق امریکہ نے افغان جنگ میں 763ارب ڈالر خرچ کیے، امریکی انسپکٹر جنرل لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4پولیس اہلکار شہید ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر غور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم