ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک : اسٹار لنک نے وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک نے وینزویلا کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے چند دنوں کے لیے مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک نے وینزویلا میں محدود مدت کے لیے مفت براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ سہولت 3 فروری تک دستیاب رہے گی۔ کمپنی وینزویلا کے ساتھ ’’مسلسل رابطے‘‘ کے لیے پرعزم ہے، جہاں آن لائن سنسرشپ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں وینزویلا کی مادورو حکومت نے فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد وینزویلا میں انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی تھی جبکہ دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت مکمل طور پر دستیاب نہیں رہی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کرمنل چارجز عائد کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سروس فراہم کرنے کا کرنے کا اعلان وینزویلا میں نے وینزویلا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔