ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اسٹار لنک اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی وینزویلا میں محدود مدت کے لیے مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرے گی۔
اسٹارلنک، جو اسپیس ایکس کی ملکیت ہے، وینزویلا کے لوگوں کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ مفت فراہم کرے گا تاکہ وہ مسلسل رابطے میں رہ سکیں۔
یہ مفت سروس 3 فروری 2026 تک دستیاب رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایلون مسک نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک مختصر پیغام بھی شیئر کیا جس میں انہوں نے وینزویلا کے عوام کے ساتھ حمایت میں۔
اس اقدام کو سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں لیا جا رہا ہے، کیونکہ وینزویلا میں حالیہ دنوں میں حالات غیر مستحکم رہے ہیں۔
یہ اقدام اسٹارلنک کے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وینزویلا میں انٹرنیٹ کی سہولت موجودہ حالات کے باوجود برقرار رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔