بے قابو معاشی حالات، پر سکون و فعال تہران
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایرانی قوم کا تاریخی تجربہ بھی یہ بتاتا ہے کہ جب بھی کسی داخلی تحریک میں بیرونی مداخلت، بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت کے کردار کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تو عوامی ردِعمل حمایت کے بجائے نفرت اور دوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ امریکی اور صہیونی حکام کی علنی مداخلت، اس کے منصوبہ سازوں کے تصور کے برخلاف، الٹا نتیجہ لے کر آئی اور ہنگامہ آرائی کی سماجی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئی۔ آج تہران میں پائی جانے والی یہ فضاۓ سکون، معاشرے کی سماجی اور سیاسی بلوغت کی علامت سمجھی جا سکتی ہے، ایسی بلوغت جو عوام کے حقیقی مسائل کو عدم استحکام پیدا کرنے والے منصوبوں کا ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دیتی۔ خصوصی رپورٹ:
عالمی طاقتوں کے خلاف اصولی اور عملی قیام، مظلومین جہان کی حمایت اور امریکی دھمکیوں کے آگے نہ جھکنے کی پاداش میں انسانی تاریخ کی ہر طرح کی غیر انسانی پابندیوں کے بعد تلخ ترین حالات میں پریشانیوں اور سختیوں کا شکار ایرانی عوام مہنگائی اور کرنسی کی قیمت کم ہونے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، حکومت اقدامات کر رہی ہے، تاجر آواز اٹھا رہے ہیں، انتظامیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن ایران دشمن قوتوں کے پروپیگنڈا کے برعکس داخلی سلامتی، ملکی دفاع اور قومی یکجہتی قائم و دائم ہے۔ دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی اپیلیں ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے سیاسی گروپ کی رپورٹ کے مطابق ملک دشمن اور انقلاب مخالف عناصر سے وابستہ ذرائع ابلاغ اور نیٹ ورکس کی جانب سے سڑکوں پر آنے اور ہنگامہ آرائی جاری رکھنے کی متعدد اپیلوں کے باوجود دارالحکومت میں کسی بھی قسم کا قابلِ ذکر اجتماع یا سرگرمی موجود نہیں۔
یہ صورتحال آشوب پھیلانے کے منصوبے کی ناکامی اور گزشتہ چند دنوں کے واقعات کے حوالے سے عوامی سماجی رویّے میں ایک بامعنی تبدیلی کی عکاس ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران، دشمن میڈیا چینلز اور ذرائع ابلاغ نے منصوبہ بند اپیلوں کی تکرار کے ذریعے ایرانی معاشرے کے نفسیاتی ماحول کو مسلسل کشیدہ رکھنے کی کوشش کی اور احتجاج کے تسلسل کا تاثر دے کر عوام کو مزید سڑکوں پر لانے کو ہدف بنائے رکھا۔ تاہم تہران کے عوام کی عدم شمولیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پسِ پردہ سرگرمیوں کے آشکار ہونے کے ساتھ ہی معاشرہ بتدریج ہنگامہ آرائی کرنے والے دھارے سے اپنی سرحدیں واضح کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے فروکش ہونے کی ایک اہم وجہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے براہِ راست کردار کا انکشاف ہے، جو ان آشوبوں کی رہنمائی اور پشت پناہی کر رہے تھے۔
امریکی صدر اور صیہونی وزیراعظم کا کردار جو اس بار نہ صرف پوشیدہ نہیں رہا بلکہ ان ممالک کے حکام کی جانب سے کھلے عام اور واضح انداز میں بیان بھی کیا گیا۔ صہیونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو سمیت بعض صہیونی عہدیداروں کے حالیہ بیانات، اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں ہنگامہ آرائی کی کھلی حمایت، درحقیقت ان سرگرمیوں کی اصل نوعیت کو بے نقاب کر گئے۔ اس اعلانیہ مداخلت نے عوام پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ ہنگامہ آرائی کوئی عوامی مطالبہ نہیں بلکہ ایران کے خلاف بیرونی دباؤ کے ایک منصوبے کا حصہ ہے، ایسا منصوبہ جس کا فکری مرکز سرحدوں سے کہیں باہر ہے اور جس میں موساد جیسی جاسوسی تنظیمیں براہِ راست کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے عوام کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے، معاشی اور کاروباری حالات پر ناراضگی کے باوجود، احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے درمیان فرق کو سمجھتے ہوئے ہنگامہ پسند عناصر سے خود کو الگ کر لیا۔
ایرانی قوم کا تاریخی تجربہ بھی یہ بتاتا ہے کہ جب بھی کسی داخلی تحریک میں بیرونی مداخلت، بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت کے کردار کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تو عوامی ردِعمل حمایت کے بجائے نفرت اور دوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ امریکی اور صہیونی حکام کی علنی مداخلت، اس کے منصوبہ سازوں کے تصور کے برخلاف، الٹا نتیجہ لے کر آئی اور ہنگامہ آرائی کی سماجی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئی۔ آج تہران میں پائی جانے والی یہ فضاۓ سکون، معاشرے کی سماجی اور سیاسی بلوغت کی علامت سمجھی جا سکتی ہے، ایسی بلوغت جو عوام کے حقیقی مسائل کو عدم استحکام پیدا کرنے والے منصوبوں کا ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دیتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور ہنگامہ آرائی صہیونی حکومت کے ہنگامہ آرائی کی اور صہیونی کی سماجی ہو گئی
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔