Islam Times:
2026-06-02@23:45:18 GMT

بے قابو معاشی حالات، پر سکون و فعال تہران

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

بے قابو معاشی حالات، پر سکون و فعال تہران

اسلام ٹائمز: ایرانی قوم کا تاریخی تجربہ بھی یہ بتاتا ہے کہ جب بھی کسی داخلی تحریک میں بیرونی مداخلت، بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت کے کردار کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تو عوامی ردِعمل حمایت کے بجائے نفرت اور دوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ امریکی اور صہیونی حکام کی علنی مداخلت، اس کے منصوبہ سازوں کے تصور کے برخلاف، الٹا نتیجہ لے کر آئی اور ہنگامہ آرائی کی سماجی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئی۔ آج تہران میں پائی جانے والی یہ فضاۓ سکون، معاشرے کی سماجی اور سیاسی بلوغت کی علامت سمجھی جا سکتی ہے، ایسی بلوغت جو عوام کے حقیقی مسائل کو عدم استحکام پیدا کرنے والے منصوبوں کا ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دیتی۔ خصوصی رپورٹ: 

عالمی طاقتوں کے خلاف اصولی اور عملی قیام، مظلومین جہان کی حمایت اور امریکی دھمکیوں کے آگے نہ جھکنے کی پاداش میں انسانی تاریخ کی ہر طرح کی غیر انسانی پابندیوں کے بعد تلخ ترین حالات میں پریشانیوں اور سختیوں کا شکار ایرانی عوام مہنگائی اور کرنسی کی قیمت کم ہونے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، حکومت اقدامات کر رہی ہے، تاجر آواز اٹھا رہے ہیں، انتظامیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن ایران دشمن قوتوں کے پروپیگنڈا کے برعکس داخلی سلامتی، ملکی دفاع اور قومی یکجہتی قائم و دائم ہے۔ دارالحکومت تہران  کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی اپیلیں ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے سیاسی گروپ کی رپورٹ کے مطابق  ملک دشمن اور انقلاب مخالف عناصر سے وابستہ ذرائع ابلاغ اور نیٹ ورکس کی جانب سے سڑکوں پر آنے اور ہنگامہ آرائی جاری رکھنے کی متعدد اپیلوں کے باوجود دارالحکومت میں کسی بھی قسم کا قابلِ ذکر اجتماع یا سرگرمی موجود نہیں۔

یہ صورتحال آشوب پھیلانے کے منصوبے کی ناکامی اور گزشتہ چند دنوں کے واقعات کے حوالے سے عوامی سماجی رویّے میں ایک بامعنی تبدیلی کی عکاس ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران، دشمن میڈیا چینلز اور ذرائع ابلاغ نے منصوبہ بند اپیلوں کی تکرار کے ذریعے ایرانی معاشرے کے نفسیاتی ماحول کو مسلسل کشیدہ رکھنے کی کوشش کی اور احتجاج کے تسلسل کا تاثر دے کر عوام کو مزید سڑکوں پر لانے کو ہدف بنائے رکھا۔ تاہم تہران کے عوام کی عدم شمولیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پسِ پردہ سرگرمیوں کے آشکار ہونے کے ساتھ ہی معاشرہ بتدریج ہنگامہ آرائی کرنے والے دھارے سے اپنی سرحدیں واضح کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے فروکش ہونے کی ایک اہم وجہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے براہِ راست کردار کا انکشاف ہے، جو ان آشوبوں کی رہنمائی اور پشت پناہی کر رہے تھے۔

امریکی صدر اور صیہونی وزیراعظم کا کردار جو اس بار نہ صرف پوشیدہ نہیں رہا بلکہ ان ممالک کے حکام کی جانب سے کھلے عام اور واضح انداز میں بیان بھی کیا گیا۔ صہیونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو سمیت بعض صہیونی عہدیداروں کے حالیہ بیانات، اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں ہنگامہ آرائی کی کھلی حمایت، درحقیقت ان سرگرمیوں کی اصل نوعیت کو بے نقاب کر گئے۔ اس اعلانیہ مداخلت نے عوام پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ ہنگامہ آرائی کوئی عوامی مطالبہ نہیں بلکہ ایران کے خلاف بیرونی دباؤ کے ایک منصوبے کا حصہ ہے، ایسا منصوبہ جس کا فکری مرکز سرحدوں سے کہیں باہر ہے اور جس میں موساد جیسی جاسوسی تنظیمیں براہِ راست کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے عوام کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے، معاشی اور کاروباری حالات پر ناراضگی کے باوجود، احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے درمیان فرق کو سمجھتے ہوئے ہنگامہ پسند عناصر سے خود کو الگ کر لیا۔

ایرانی قوم کا تاریخی تجربہ بھی یہ بتاتا ہے کہ جب بھی کسی داخلی تحریک میں بیرونی مداخلت، بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت کے کردار کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تو عوامی ردِعمل حمایت کے بجائے نفرت اور دوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ امریکی اور صہیونی حکام کی علنی مداخلت، اس کے منصوبہ سازوں کے تصور کے برخلاف، الٹا نتیجہ لے کر آئی اور ہنگامہ آرائی کی سماجی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئی۔ آج تہران میں پائی جانے والی یہ فضاۓ سکون، معاشرے کی سماجی اور سیاسی بلوغت کی علامت سمجھی جا سکتی ہے، ایسی بلوغت جو عوام کے حقیقی مسائل کو عدم استحکام پیدا کرنے والے منصوبوں کا ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دیتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور ہنگامہ آرائی صہیونی حکومت کے ہنگامہ آرائی کی اور صہیونی کی سماجی ہو گئی

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان