سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد کے موقع پر ہنگامہ آرائی، تحقیقاتی رپورٹ مرتب
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے اور اسے آئی جی پنجاب کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے ساتھ ضروری دستاویزات اور ثبوت بھی فراہم کیے جائیں گے، جن میں ہلڑبازی کرنے والوں کی ویڈیوز شامل ہیں، رپورٹ میں ان افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے جبکہ اسمبلی کے ملازمین اور عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غیر متعلقہ اور سزا یافتہ افراد وزیراعلیٰ کے پی کے ہمراہ اسمبلی میں داخل ہوئے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو دھکے دیے گئے، رپورٹ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین کے ہمراہ پنجاب کا دورہ کیا تھا، جس کا مقصد دونوں صوبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا اور تعلیمی، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا، دورے کے دوران وہ مختلف سرکاری دفاتر اور اسمبلی کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے تھے، اور ہنگامہ آرائی اسی دوران پیش آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔