صدر مملکت کا عالمی یوم بریل پر بینائی سے محروم افراد کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ بریل کے موقع پر بینائی سے محروم افراد کے حقوق کے تحفظ، ان کی قومی زندگی میں مکمل شمولیت اور مساوی مواقع کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ بریل محض پڑھنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ آزادی، خودمختاری اور مساوی مواقع کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینائی سے محروم افراد کی قومی زندگی میں شمولیت آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔صدر زرداری نے کہا پاکستان بریل خواندگی کے فروغ اور معاون ٹیکنالوجیز تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے، کیونکہ قابلِ رسائی تعلیم اور جامع عوامی خدمات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی عمارتوں، تعلیمی اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں قابلِ رسائی معیارات کو یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ بصارت سے محروم افراد کو مساوی سہولیات میسر آ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سے محروم افراد
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔