تہران کی تازہ ترین تصویریں
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ایران دشمن قوتوں کے پروپیگنڈا کے برعکس داخلی سلامتی، ملکی دفاع اور قومی یکجہتی قائم و دائم ہے۔ دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی اپیلیں ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
تہران کی تازہ ترین تصویریں
اسلام ٹائمز۔ عالمی طاقتوں کے خلاف اصولی اور عملی قیام، مظلومین جہان کی حمایت اور امریکی دھمکیوں کے آگے نہ جھکنے کی پاداش میں انسانی تاریخ کی ہر طرح کی غیر انسانی پابندیوں کے بعد تلخ ترین حالات میں پریشانیوں اور سختیوں کا شکار ایرانی عوام مہنگائی اور کرنسی کی قیمت کم ہونے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، حکومت اقدامات کر رہی ہے، تاجر آواز اٹھا رہے ہیں، انتظامیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن ایران دشمن قوتوں کے پروپیگنڈا کے برعکس داخلی سلامتی، ملکی دفاع اور قومی یکجہتی قائم و دائم ہے۔ دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی اپیلیں ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے سیاسی گروپ کی رپورٹ کے مطابق ملک دشمن اور انقلاب مخالف عناصر سے وابستہ ذرائع ابلاغ اور نیٹ ورکس کی جانب سے سڑکوں پر آنے اور ہنگامہ آرائی جاری رکھنے کی متعدد اپیلوں کے باوجود دارالحکومت میں کسی بھی قسم کا قابلِ ذکر اجتماع یا سرگرمی موجود نہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تہران کی تازہ ترین تصویریں
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔