عدالتی حکم نظر انداز، انتظامیہ برنس روڈ پر تجاوزات کیخلاف کارروائی کرنے سے گریزاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )کراچی کے ضلع ساؤتھ میں انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاکستان چوک ،اکبر روڈ موٹر سائیکل مارکیٹ اور صدر ایمپریس مارکیٹ کی درجنوں دکانیں سیل کردیں لیکن برنس روڈ پر ہوٹل مافیا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ،برنس روڈ کے رہائشیوں کے ایک وفد نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ہماری تمام سڑکوں اور گلیوں پر ہوٹل مافیا کا قبضہ ہو گیا ہے اور لوگوں کا پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے خواتین نے پریشانیوں کے باعث رات کو اپنے گھروں سے نکلنا بند کر دیا ہے کمشنر کراچی ،اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس و بلدیاتی اداروں کو نہ جانے کیوں برنس روڈ پر تجاوزات نظر نہیں آتیں پورے شہر میں سڑک اور فٹ پاتھوں پر کرسیاں لگانے والے ہوٹلوں اور چائے خانوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن کمشنر کراچی سمیت پوری انتظامیہ نے برنس روڈ پر تجاوزات کے حوالے سے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ہوٹل مافیا کو علاقہ پولیس کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے جس پر علاقے کے مکینوں میں شدید غمِ وغصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے ،پرنس روڈ پر ہوٹل مافیا کے کارندوں اور علاقہ مکینوں میں جھگڑے بھی معمول بن گئے ہیں جو کسی بھی وقت بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں علاقے کے مکینوں نے کمشنر کراچی سے درخواست کی ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور برنس روڈ سے بھی تجاوزات کا خاتمہ کروائیں کیونکہ ہوٹل والوں نے علاقے کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے علاقے کے مکینوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برنس روڈ پر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک