Jasarat News:
2026-06-02@22:31:35 GMT

بالوں کا گرنا عام مسئلہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

موسم سرما کے ساتھ ہی بالوں کا گرنا ایک عام مگر پریشان کن مسئلہ بن جاتا ہے۔گرمیوں کے مقابلے میں سردیوں میں بال زیادہ جھڑتے ہیں اور یہ شکایت تقریباً ہر عمر کے افراد کو رہتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس کی پہلی اور واضح وجہ خشک موسم ہے۔موسم سرما کی ٹھنڈی، خشک ہوا نہ صرف جلد بلکہ کھوپڑی کی نمی بھی چھین لیتی ہے۔جب کھوپڑی خشک ہو جاتی ہے تو خشکی پیدا ہوتی ہے جو بالوں کی جڑوں کو کمزور کر کے جھڑنے کا باعث بنتی ہے۔اس دوران اکثر لوگ خشکی سے نجات کے لئے روزانہ یا ضرورت سے زیادہ تیل لگانا شروع کر دیتے ہیں۔لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ طریقہ مسئلہ مزید بڑھا سکتا ہے۔بہت زیادہ تیل لگانے سے کھوپڑی پر فنگس کی افزائش بڑھتی ہے، جس سے خشکی اور ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کی رائے ہے کہ تیل شیمپو سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے لگانا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور کھوپڑی کو چکنا رکھنے کے بجائے مناسب نمی فراہم کرتا ہے۔سردیوں میں گرم کپڑے، ٹوپی، اسکارف اور کمبل کا استعمال بھی بالوں پر رگڑ پیدا کرتا ہے۔رگڑ سے بال الجھتے، خشک ہوتے اور آخرکار ٹوٹنے لگتے ہیں۔اسی لئے رات کو سوتے وقت ریشمی یا نرم کپڑے کی ٹوپی پہننے کی تجویز دی جاتی ہے تاکہ رگڑ کم ہو اور بالوں کی سطح محفوظ رہے۔ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ روئی یا سخت مٹیریل والی ٹوپیاں زیادہ نقصان کرتی ہیں۔ایک اور اہم وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے۔سردیوں میں لوگ کم دھوپ میں نکلتے ہیں اور سورج کی روشنی بھی نسبتاً کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح کم ہونے لگتی ہے۔وٹامن ڈی کی کمی بالوں کے جھڑنے کو تیز کرتی ہے۔اگر بال غیر معمولی تیزی سے جھڑ رہے ہوں تو وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا اور ڈاکٹر کے مشورے سے دوا لینا بہتر تصور کیا جاتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بال گرنا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن جب اس کے ساتھ دیگر عوامل شامل ہو جائیں تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔غذائیت کی کمی بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔آئرن، زنک، اومیگا تھری اور وٹامنز کی کمی سے بال کمزور پڑ جاتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ سردیوں میں بالوں کی صحت برقرار رکھنے کے لئے موسم کے مطابق غذاؤں کا استعمال فائدہ مند ہے۔موسمی پھل جیسے کینو، مالٹے، امرود اور سبز سبزیاں، وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں، جو کھوپڑی کی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔اومیگا تھری فیٹی ایسڈز مچھلی، بادام، اخروٹ اور السی میں پائے جاتے ہیں، جو بالوں کی مضبوطی اور چمک بڑھاتے ہیں۔ماہرین کی تجویز ہے کہ سردیوں میں شیمپو کا استعمال کم سے کم رکھا جائے، اور بال بہت زیادہ گرم پانی سے نہ دھوئے جائیں۔یہ بعض اوقات ہارمونز، تھائیرائیڈ یا دیگر طبی مسائل کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن خوراک، مناسب نگہداشت اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ سردیوں میں بالوں کا گرنا واضح حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔سردی اگر بالوں کا امتحان ہے تو تھوڑی سی توجہ کے ساتھ اس امتحان میں کامیابی بھی ممکن ہے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سردیوں میں ہے ماہرین بالوں کا بالوں کی وٹامن ڈی کے ساتھ کی کمی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا