اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج
امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ

امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میں وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کو اٹھانے کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ سامنے آیا۔ا مریکی میڈیا کے مطابق شکاگو سمیت متعدد شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے، جن میں لوگوں نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی اور ایک جارحیت قرار دیا، مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف شدید نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔واشنگٹن اور پورٹ لینڈ جیسے شہروں میں احتجاجی پروگرام منصوبہ بندی کے تحت منعقد ہوئے، جن میں شرکا نے امریکی مداخلت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ امریکا کو وینزویلا سمیت کسی بھی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔صدر ٹرمپ نے خود اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا پر اثرات قائم رکھے گا اور وہاں عبوری انتظام چلائے گا، جبکہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ادھر نیو یارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ پیرس میں بائیں بازو کے مظاہرین نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور وینزویلا کے جھنڈے لہرائے۔وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے خلاف یونان کے دار الحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا، روم میں اٹلی کے شہریوں کا وینزویلا میں امریکی آپریشن کے خلاف احتجاج ہوا۔امریکی جارحیت کے خلاف ارجنٹائن اور کولمبیا میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل