وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، سید سعادت اللہ حسینی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اسطرح کے اقدامات عالمی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور چھوٹے و کمزور ممالک کو طاقتور ریاستوں کے جبر کے سامنے بے بس کر دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اپنے ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ کا فوجی حملہ، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور انہیں زبردستی امریکہ منتقل کیا جانا اقوامِ متحدہ کے منشور اور آزاد و خودمختار ممالک کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی اجازت یا حق دفاع کے بغیر طاقت کا استعمال ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور یکطرفہ فوجی مداخلت کو معمول بنانے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور چھوٹے و کمزور ممالک کو طاقتور ریاستوں کے جبر کے سامنے بے بس کر دیتے ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ کی فوجی کارروائی کو وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، جن کا تخمینہ تقریباً 300 ارب بیرل ہے، جو اسے دنیا کے وسائل سے مالا مال ترین ممالک میں شامل کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا کی جانب سے اپنے تیل کی تجارت امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں کرنے کی کوششوں کو بھی امریکی معاشی بالادستی کے لئے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا گیا ہے، جس نے موجودہ تصادم کو جنم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف الزامات یا سیاسی اختلافات کو فوجی حملے یا حکومت کی تبدیلی کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اس کارروائی کو وسیع پیمانے پر نوآبادیاتی طرز کی سامراجی پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کی فوجی کارروائی نے وینزویلا سمیت پورے لاطینی امریکی خطے کو عدم استحکام کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ تاریخ سے یہ بات بارہا ثابت ہو چکی ہے کہ اس قسم کی مداخلتیں امن و انصاف کے قیام کے بجائے بدامنی، شہری آبادی کی مشکلات اور جمہوری اداروں کی کمزوری کا سبب بنتی ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی نے اپنی اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ طاقتور ممالک کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائیوں کے بار بار واقعات اقوام متحدہ کے منشور پر مبنی بین الاقوامی نظام کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لئے متعدد ممالک کی اپیلوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ پر عالمی دباؤ ڈالا جانا چاہیئے۔ انہوں نے وینزویلا کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بغیر بیرونی مداخلت کے اپنے ملک کے مستقبل کو طے کرنے کا حق، عوام کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو کھل کر امریکی فوجی جارحیت کی مخالفت کرنی چاہیئے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لئے بات چیت اور عالمی اداروں کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیئے۔ اپنے بیان کے اختتام پر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ہر قسم کی سامراجی اور سیاسی جارحیت مسلط کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ خودمختاری کا احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور امن کے لئے سنجیدہ کوشش ہی ایک منصفانہ اور مستحکم عالمی نظام کی بنیاد ہے، اس طرح کے جارحانہ اقدامات پر خاموشی مزید مظالم اور غیر منصفانہ کاروائیوں کو جنم دے سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ فوجی کارروائی بین الاقوامی انہوں نے کی فوجی کے لئے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔