جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اسطرح کے اقدامات عالمی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور چھوٹے و کمزور ممالک کو طاقتور ریاستوں کے جبر کے سامنے بے بس کر دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اپنے ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ کا فوجی حملہ، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور انہیں زبردستی امریکہ منتقل کیا جانا اقوامِ متحدہ کے منشور اور آزاد و خودمختار ممالک کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی اجازت یا حق دفاع کے بغیر طاقت کا استعمال ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور یکطرفہ فوجی مداخلت کو معمول بنانے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور چھوٹے و کمزور ممالک کو طاقتور ریاستوں کے جبر کے سامنے بے بس کر دیتے ہیں۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ کی فوجی کارروائی کو وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، جن کا تخمینہ تقریباً 300 ارب بیرل ہے، جو اسے دنیا کے وسائل سے مالا مال ترین ممالک میں شامل کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا کی جانب سے اپنے تیل کی تجارت امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں کرنے کی کوششوں کو بھی امریکی معاشی بالادستی کے لئے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا گیا ہے، جس نے موجودہ تصادم کو جنم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف الزامات یا سیاسی اختلافات کو فوجی حملے یا حکومت کی تبدیلی کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اس کارروائی کو وسیع پیمانے پر نوآبادیاتی طرز کی سامراجی پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کی فوجی کارروائی نے وینزویلا سمیت پورے لاطینی امریکی خطے کو عدم استحکام کے  خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ تاریخ سے یہ بات بارہا  ثابت ہو چکی ہے کہ اس قسم کی مداخلتیں امن و انصاف کے قیام کے بجائے بدامنی، شہری آبادی کی مشکلات اور جمہوری اداروں کی کمزوری کا سبب بنتی ہیں۔

سید سعادت اللہ حسینی نے اپنی اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ طاقتور ممالک کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائیوں کے بار بار واقعات اقوام متحدہ کے منشور پر مبنی بین الاقوامی نظام کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لئے متعدد ممالک کی اپیلوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ پر عالمی دباؤ ڈالا جانا چاہیئے۔ انہوں نے وینزویلا کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بغیر بیرونی مداخلت کے اپنے ملک کے مستقبل کو طے کرنے کا حق، عوام کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو کھل کر امریکی فوجی جارحیت کی مخالفت کرنی چاہیئے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لئے بات چیت اور  عالمی اداروں کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیئے۔ اپنے بیان کے اختتام پر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ہر قسم کی سامراجی اور سیاسی جارحیت مسلط کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ خودمختاری کا احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور امن کے لئے سنجیدہ کوشش ہی ایک منصفانہ اور مستحکم عالمی نظام کی بنیاد ہے، اس طرح کے جارحانہ اقدامات پر خاموشی مزید مظالم اور غیر منصفانہ کاروائیوں کو جنم دے سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ فوجی کارروائی بین الاقوامی انہوں نے کی فوجی کے لئے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی