فوجی فاؤنڈیشن: 70 سالہ بے مثال خدمات، ریاست پر بوجھ نہیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
پاکستان میں خود کفیل فلاحی ماڈل پر مبنی ’’فوجی فاؤنڈیشن‘‘ جیسا اہم ادارہ خدمت اور قومی وقار کی علامت بن گیا۔
گزشتہ 70 برس سے فوجی فاؤنڈیشن نے ثابت کیا کہ ریٹائرڈ فوجیوں، شہداء اور بیواؤں کی فلاح ریاست پر بوجھ نہیں ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ملک کی 5 فیصد آبادی یعنی ایک کروڑ مستحق افراد کی معاونت کر رہی ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن اپنی سالانہ آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ تقریباً 12 سے 14 ارب روپے فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کرتی ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کے تحت 74 طبی مراکز فعال ہیں، جن میں 11 اسپتال اور 63 کلینکس شامل ہیں۔
فوجی فاؤنڈیشن کے طبی اداروں میں 1940 سے زائد بستروں پر سالانہ 50 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
اسی طرح، فوجی فاؤنڈیشن 131 تعلیمی ادارے چلا رہی ہے جہاں 75 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ تعلیمی وظائف کی مد میں فوجی فاؤنڈیشن نے 25-2024 میں 15 ہزار وظائف کے تحت 383.
فوجی فرٹیلائزر پی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ بن گئی
فوجی فاؤنڈیشن نے 25-2024 میں 325.7 ارب روپے جبکہ گزشتہ 7 برسوں میں مجموعی طور پر 1.6 ٹریلین روپے ٹیکس ادا کیا۔
اس کے علاوہ، فوجی فاؤنڈیشن پاکستان کی یوریا کھاد کی 60 فیصد ضروریات پوری کر کے سالانہ 1.5 سے 2 ارب ڈالر بچا رہی ہے۔ کھاد کی قلت اور گیس بحران کے باوجود فوجی فاؤنڈیشن نے قیمتوں کے استحکام اور دستیابی کو یقینی بنایا۔
توانائی بحران کے دوران فوجی فاؤنڈیشن نے بغیر سرکاری ضمانت 330 میگاواٹ سے زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل کی۔ فوجی فاؤنڈیشن مقامی گیس اور ونڈ انرجی کے ذریعے توانائی پیدا کر کے قومی نظام کو سہارا دے رہی ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن 84 فیصد سویلین بشمول خواتین اور معذور افراد کو 32 ہزار سے زائد روزگار فراہم کر رہی ہے۔ خدمت اور خود کفالت پر مبنی فوجی فاؤنڈیشن آج قومی فلاح اور معاشی استحکام کا مضبوط ستون بن چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوجی فاؤنڈیشن نے رہی ہے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔