مادورو غیرقانونی صدرتھے ، برطانیہ، امریکی کارروائی جائز ہے، اٹلی

برطانیہ(ویب ڈیسک) وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ وینزویلا پر حملے میں شامل نہیں، مادورو غیرقانونی صدر تھے، وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اٹلی نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی جائز ہے۔اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ امریکا نے دفاعی اقدام کیا، فوجی مداخلت آمریت کا حل نہیں۔

جرمنی نے کہا کہ معاملے کی قانونی جانچ میں وقت لگے گا۔فرانس نے کہا وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار ہونا چاہیے۔ کینیڈیا نے کہا فیصلے کا حق وینزویلا کے عوام کو ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ وینزویلا کے آپریشن میں کسی طور پر شامل نہیں۔

انہوں نے کہا مادورو کو غیر قانونی صدر سمجھتے تھے، وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار اور عوامی خواہشات کی عکاس حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو جائز اور دفاعی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اٹلی نے وینزویلا کے صدر کی خود ساختہ انتخابی فتح کو تسلیم نہیں کیا، تاہم فوجی مداخلت آمریت کے خاتمے کا حل نہیں۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی کی قانونی جانچ میں وقت لگے گا۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی پُرامن اور جمہوری ہونی چاہیے۔کینیڈین وزیراعظم نے کہا وینزویلا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکی کارروائی وینزویلا میں وینزویلا کے نے کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار