مادورو غیرقانونی صدرتھے،’’برطانیہ‘‘، امریکی کارروائی جائز ہے، اٹلی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
مادورو غیرقانونی صدرتھے ، برطانیہ، امریکی کارروائی جائز ہے، اٹلی
برطانیہ(ویب ڈیسک) وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ وینزویلا پر حملے میں شامل نہیں، مادورو غیرقانونی صدر تھے، وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اٹلی نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی جائز ہے۔اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ امریکا نے دفاعی اقدام کیا، فوجی مداخلت آمریت کا حل نہیں۔
جرمنی نے کہا کہ معاملے کی قانونی جانچ میں وقت لگے گا۔فرانس نے کہا وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار ہونا چاہیے۔ کینیڈیا نے کہا فیصلے کا حق وینزویلا کے عوام کو ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ وینزویلا کے آپریشن میں کسی طور پر شامل نہیں۔
انہوں نے کہا مادورو کو غیر قانونی صدر سمجھتے تھے، وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار اور عوامی خواہشات کی عکاس حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو جائز اور دفاعی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اٹلی نے وینزویلا کے صدر کی خود ساختہ انتخابی فتح کو تسلیم نہیں کیا، تاہم فوجی مداخلت آمریت کے خاتمے کا حل نہیں۔
جرمن چانسلر نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی کی قانونی جانچ میں وقت لگے گا۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی پُرامن اور جمہوری ہونی چاہیے۔کینیڈین وزیراعظم نے کہا وینزویلا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی کارروائی وینزویلا میں وینزویلا کے نے کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔