Jasarat News:
2026-06-02@22:15:54 GMT

بھارت: ہندوتوا کا عروج اور اقلیتوں کا محاصرہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260105-03-2
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم اب کسی ایک خطے، ایک مذہب یا کسی وقتی واقعے تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ ایک منظم، فکری اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ نئے سال کی آمد ہو یا کسی مذہبی تہوار کا موقع، بھارت کے اندر بالخصوص مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دلتوں کے لیے ہر دن خوف، عدم تحفظ اور جبر کی نئی علامت بن کر اُبھرتا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس سے اب صرف پاکستان یا خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے سال کی آمد کے موقع پر بھارتی قابض انتظامیہ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وادی کو ایک مستقل فوجی چھاؤنی اور کھلی جیل میں تبدیل کرنے کا منصوبہ وقتی نہیں بلکہ مستقل ہے۔ اضافی فوجی چوکیاں، سرچ آپریشنز، گھروں پر چھاپے، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور سرینگر۔ جموں شاہراہ پر سخت ناکہ بندی نے ایک بار پھر کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر تہوار، ہر خوشی اور ہر موسمی تبدیلی کشمیریوں کے لیے خوف اور جبر کی نئی لہر لے کر آتی ہے۔ دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم میں کسی قسم کی کمی نظر نہیں آتی بلکہ یہ ظلم اب نئے طریقوں، نئی شدت اور نئے جوازوں کے ساتھ جاری ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریاں، لاپتا افراد، میڈیا پر قدغن، انٹرنیٹ کی بندش، اجتماعی سزائیں اور گھروں کی مسماری مقبوضہ کشمیر میں معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹیں، اقوامِ متحدہ کے مبصرین اور عالمی اداروں کے بیانات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کشمیر آج دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود بھارت نہ صرف ان الزامات کو مسترد کرتا ہے بلکہ انہیں داخلی معاملہ قرار دے کر عالمی برادری کو خاموش رکھنے میں بھی کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ تاہم یہ ظلم اب صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہا۔ بھارت کے اندر بھی اقلیتوں کے خلاف نفرت، تشدد اور امتیازی سلوک میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اُتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک کیفے میں ہندو انتہا پسندوں کا مسلم نوجوان پر بدترین تشدد محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس سوچ کا عکاس ہے جو ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ایسے واقعات میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ یا تو پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے یا متاثرہ افراد ہی کو موردِ الزام ٹھیرا دیا جاتا ہے۔ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ جمہوریت کہاں ہے جس میں اقلیتیں خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں؟ اگر جمہوریت کا مطلب اکثریت کے نام پر اقلیتوں کو کچلنا، ان کے گھروں کو مسمار کرنا، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دینا ہے تو پھر ایسے نظام کو جمہوری کہنا محض ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قابل ِ غور بات یہ ہے کہ اب خود بھارت کے اندر سے بھی اس بیانیے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ معروف بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز سمیت متعدد ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ اعتراف اس سرکاری بیانیے کو جھٹلاتا ہے جس کے تحت بھارت کو رواداری، کثرتیت اور جمہوری اقدار کا علمبردار بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے جیسے ہر فرد کو اپنے مذہب، عقیدے اور ثقافت کے مطابق جینے کا حق حاصل ہے۔ مسیحی برادری کے خلاف حالیہ مہینوں میں ہونے والے واقعات خاص طور پر تشویشناک ہیں۔ کرسمس جیسے مذہبی تہوار کے موقع پر عبادت گاہوں، مذہبی علامات اور تقریبات کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی محض آئینی کتابوں تک محدود ہو چکی ہے۔ رائے پور میں کرسمس کی سجاوٹ کو تہس نہس کیا گیا، شاپنگ مالز میں سجاوٹ برباد کی گئی، آسام میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، مدھیہ پردیش میں چرچ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی، اور چھتیس گڑھ میں انتہا پسندوں نے شاپنگ مال پر حملہ کر کے عملے کو دھمکیاں دیں۔ اُتر پردیش، آسام اور کیرالہ میں بھی کرسمس کی تقریبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، مگر ریاستی اداروں کی خاموشی نے انتہا پسند عناصر کو مزید شہ دی۔ بھارتی کانگریس کی ترجمان سوپریا شری نات کا یہ کہنا کہ نریندر مودی اور بی جے پی نے پورے بھارت میں نفرت کو ہوا دی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ محض بیرونی الزام نہیں بلکہ اندرونی اعتراف بھی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم، گھروں کی مسماری، عبادت گاہوں کو متنازع قرار دے کر مسمار کرنا، ہجوم کے تشدد اور مسلمانوں کو سماجی و معاشی طور پر دیوار سے لگانے کی کوششیں ایک منظم پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ دلت برادری، جو صدیوں سے ذات پات کے نظام کا شکار رہی ہے، آج بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہی۔ اعلیٰ ذات کہلانے والوں کے ہاتھوں ان پر ہونے والا ظلم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بھارت میں انسانی مساوات کا تصور ابھی تک خواب ہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کیا جانا ایک فطری اور اخلاقی ردعمل ہے۔ ترجمانِ دفتر خارجہ طاہر حسین اندرانی کا یہ بیان کہ بھارت میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے واقعات نہایت تشویشناک ہیں، عالمی برادری کے لیے بھی ایک سنجیدہ پیغام ہے۔ کرسمس کے موقع پر عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ اور مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی مذمت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے معاملے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ اصل سوال عالمی برادری کی خاموشی کا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، جو دنیا کے دیگر خطوں میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر فوری ردعمل دیتی ہیں، بھارت کے معاملے میں یا تو خاموش ہیں یا رسمی بیانات تک محدود۔ بھارت کی بڑی منڈی، جیو اسٹرٹیجک اہمیت اور عالمی طاقتوں کے معاشی و سیاسی مفادات نے انسانی حقوق کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔ یہی دوہرا معیار آج دنیا میں انسانی حقوق کے تصور کو کمزور کر رہا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم محض ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانیت، عالمی امن اور بین الاقوامی اخلاقیات کا سوال ہے۔ اگر آج اس شدت پسندی کو نہ روکا گیا تو کل اس کے اثرات صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں گے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ بھارت کو اقلیتوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ وقت کی آواز ہے اور اگر دنیا نے اس آواز کو نظرانداز کیا تو تاریخ اس خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی بھارت کے اندر کہ بھارت میں عبادت گاہوں نہیں بلکہ تک محدود کیا جا رہا ہے اس بات

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 3 ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کے دوسرے میچ میں بھی ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد مہمان ٹیم کی بیٹنگ جاری ہے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جاری 3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں قومی ٹیم نے ایک بار پھر ٹاس اپنے نام کرلیا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ دوسرے ون ڈے کے لیے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ pic.twitter.com/YEk2H1aXuB

— Zeeshu Bhatti (@zeeshu_bhatti) June 2, 2026

پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہاکہ پہلے ون ڈے میں کامیابی حاصل کرنے والی قومی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسی کمبی نیشن کو برقرار رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سیریز کے ابتدائی ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے۔

دوسرے میچ میں قومی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ کامیابی حاصل کرکے سیریز اپنے نام کرے، جبکہ آسٹریلیا سیریز میں واپسی کے لیے میدان میں اترا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آسٹریلیا ایک روزہ سیریز پاکستان ون ڈے میچ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی