نوجوان نسل کی آواز کو دباکر مسائل حل نہیں کئے جاسکتے،جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ حافظ نصراللہ چنا عزیز نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کی آواز دبا مسائل کا حل نہیں اس سے معاشرے میں بے چینی پھیلے گی اس وقت ملک میں جمہوریت کے نام پر امریت قائم ہے عوام پریشان ہیں اور حمکران عیاشیوں میں مصروف ہیں یہ باتیں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ اس وقت میں غیر محسوس اندازمیں تحریر اور تقریر پر پابندی ہے اور حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ اپنے پر کی گئی تنقید کو برداشت کرلیں یا ان کا جواب دے انھوں نے کہا اس ملک میںجہاں مہنگائی اور بے روزگاری ختم ہونے کے بجائے پھیلتی جارہی ہے وہاں جب نوجوان اپنی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی آواز کو سننے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جارہی جس وجہ ملک میں مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں انھوں نے کہا اس وقت عوام پریشان ہے گیس کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ بجلی کی بڑھتے ہوئے اور ظالمانہ ٹیرف کی وجہ سے تاجر برادری نے 2025کو اپنے لیے بدترین سال قرار دیا کہ جس میں ان سے ٹیکس تو زبردستی لیے گئے لیکن سہولت کے نام پر انھیں کچھ نہیں دیا گیا انھوں نے کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں لیکن عوام کی گردن پر چھری چلائی جارہی ہے ٹیکس کے نام پر ای چلانے کے نام پر ناجائز تجاویزات کے نام پر انھوں نے کہا ان تمام حالت نے ثابت کردیا ہے کہ موجودہ نظام اور چہروں سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی اس کے لیے اس پورے نظام کو بدلنے کی وجہ سے تبدیلی آئے گی اور اس کے لیے ہمیں جدوجہد کرنی ہوگی اور قرآن وسنت کا نظام لانے کی جدوجہد کرنی ہوگی انھوں نے کہا کہ اس تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی بدلو نظام کی تحریک چلا رہی ہے اور موجودہ سال میں یہ تحریک عوام کے دلوں کی آواز بن کر سامنے آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انھوں نے کہا کے نام پر کی ا واز
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں