بھارت نے کرکٹ سیاست کی نذر کر کے کھیل کی روح کومجروح کیا: گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی(کامرس رپورٹر)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ماضی میں کرکٹ کو سیاست کی نذر کیا اور آئی سی سی کو انڈین کرکٹ لیگ بنا کر رکھ دیا۔ جب بھی پاکستان کے ساتھ بھارتی کرکٹ ٹیم کا میچ طے پایا تو بھارت نے پاکستان میں سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر یہاں آ کر کھیلنے سے انکار کیا اور میچ کسی تیسرے ملک میں کرانے کا مطالبہ کیا۔ آج وہی خدشات بھارت کو خود درپیش ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھارت سیاحوں کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا، وہاں نہ خواتین محفوظ ہیں اور نہ ہی اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے۔ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پوری دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ مودی حکومت کی انتہاپسند پالیسیوں نے بھارت کو ایک متنازع اور انتہا پسند ریاست بنا دیا ہے۔کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ بھارت نے سیاست کو کرکٹ میں شامل کر کے کھیل کی روح کو مجروح کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارت نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔