Jasarat News:
2026-07-24@04:50:34 GMT

2025: جنگ، بھوک اور امدادی بحران؛ انسانی المیوں کا سال

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260105-03-6
بلاشبہ موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جس میں جنگ، بھوک، نقل مکانی، معاشی غیر یقینی اور موسمیاتی شدت ایک دوسرے میں اس طرح گتھ گئے ہیں کہ انسانی زندگی کی حرمت خود ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ 2025 کا سال خصوصاً اْن معاشروں کے لیے نہایت صبر آزما اور کٹھن ثابت ہوا جو پہلے ہی کمزور معیشت، کمزور ریاستی ڈھانچوں اور کمزور سماجی حفاظتی نظام کا شکار تھے۔ دنیا بھر میں جاری طویل جنگوں نے جہاں انسانی جسموں کو زخموں سے چْور کیا، وہیں روحوں کو بھی مایوسی اور عدم تحفظ کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ محض چند خطوں تک محدود تنازعات نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کے اثرات معاشروں کی بنیادی ساخت کو چیلنج کر رہے ہیں۔

دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد شاید ہی کبھی دنیا نے اتنے وسیع پیمانے پر بیک وقت اتنے زیادہ تنازعات کا سامنا کیا ہو۔ 2024 تک 61 جنگیں مختلف خطوں میں جاری تھیں اور 2025 میں ان کی شدت اور اثرات مزید بڑھ گئے۔ یہ جنگیں اب مختصر، محدود یا علاقائی نوعیت کی نہیں رہیں بلکہ طویل المدتی کشمکش میں بدل چکی ہیں جن میں ریاستی قوتوں کے ساتھ غیر ریاستی عناصر بھی پوری طرح متحرک ہیں۔ ایسے گروہ جنگی معیشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وسائل پر قبضہ جماتے ہیں، انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور امن کی کوششوں کو بار بار سبوتاژ کرتے ہیں۔ نتیجتاً عدم استحکام ایک مستقل کیفیت بن گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں لوگ اپنے گھروں، کھیتوں، بازاروں اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔

جنگ کی آگ صرف گولی اور بارود تک محدود نہیں رہتی؛ یہ معاشی نظام کو توڑ دیتی ہے، ریاستی اداروں کو کمزور کرتی ہے اور سماجی رشتوں کو بکھیر دیتی ہے۔ کسان کھیت چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں تو زمین بنجر ہو جاتی ہے، منڈیاں ویران پڑ جائیں تو خوراک کی ترسیل ٹوٹ جاتی ہے، سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو جائیں تو زندگی کا پورا نظام کہیں میان میں رہ جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ 2025 میں غذائی قلت نے خطرناک موڑ اختیار کیا۔ لاکھوں خاندان اس صورتحال سے دوچار ہوئے جہاں روزی کا ذریعہ چھن گیا اور پلیٹ سے لقمہ غائب ہو گیا۔ بچوں کے چہروں سے مسکراہٹ کے بجائے خوف اور کمزوری کے آثار جھلکنے لگے۔ عالمی اداروں کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ کروڑوں بچے ایسے حالات میں جی رہے ہیں جہاں بھوک محض ایک وقتی کیفیت نہیں بلکہ موت کے قریب لے جانے والی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔

جن معاشروں میں پہلے ہی غربت اور کمزور انفرا اسٹرکچر موجود تھا، وہاں اس بحران نے تباہی کو کئی درجے بڑھا دیا ہے۔ عالمی امداد میں کمی، مالیاتی دباؤ اور بین الاقوامی ترجیحات میں تبدیلی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ وہ ممالک جو ہمیشہ بیرونی امداد پر انحصار کرتے آئے تھے، اچانک وسائل کی کمی کے بھنور میں پھنس گئے۔ امدادی تنظیمیں میدان میں موجود ضرور ہیں، مگر ان کے ہاتھ وسائل کی قلت اور رسائی کی پابندیوں نے باندھ رکھے ہیں۔ بعض علاقوں میں جنگ جُو گروہوں کے ہاتھوں امدادی قافلے روکے جاتے ہیں، کہیں سیکورٹی خدشات رکاوٹ بنتے ہیں، اور کہیں سیاسی مفادات ضرورت مند انسانوں سے بڑھ کر اہم ٹھیرتے ہیں۔

سوڈان اس پوری تصویر کا شاید سب سے المناک چہرہ بن چکا ہے۔ برسوں سے جاری خانہ جنگی نے وہاں کے شہروں اور دیہاتوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، زرعی نظام ٹوٹ گیا، منڈیوں کا پہیہ جام ہو گیا، اور نتیجتاً قحط کی کیفیت نے زندگی کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔ بچوں کے معصوم جسم غذائی کمی سے کمزور اور نحیف ہو رہے ہیں، ماؤں کی آنکھوں میں بے بسی بسی ہوئی ہے، اور بزرگوں کے چہرے وقت کی کرختگی کے کرب سے بھرے ہوئے ہیں۔ سوڈان کی مثال محض ایک ملک کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس عالمی رجحان کی علامت ہے جس میں جنگیں انسانی تہذیب کے بنیادی ستونوں کو ہلا رہی ہیں۔

مگر بحران صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بھی تباہی کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ خشک سالی، بے موسمی بارشیں، سیلاب، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی بگاڑ نے زرعی معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ جب قدرتی آفات بار بار دروازہ کھٹکھٹائیں تو معاشرے سنبھلنے سے پہلے ہی دوبارہ گر پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے خطوں میں بھوک اور غربت جنگ کے بغیر بھی بڑھ رہی ہے، اور جب جنگ اور ماحولیاتی بگاڑ ایک ساتھ آ ملیں تو صورتحال ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔

2025 کی یہ کڑی حقیقت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ عالمی نظام میں کہیں نہ کہیں اخلاقی ترجیحات کمزور پڑ چکی ہیں۔ طاقت ور ممالک کے ایوانوں میں جغرافیائی مفادات، علاقائی اثر و رسوخ اور اسلحہ کی منڈیاں زیادہ اہم دکھائی دیتی ہیں، جبکہ کمزور اقوام کی چیخیں سفارتی شور میں دب جاتی ہیں۔ انسانی جان کی قدر، جسے تہذیب کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، بسا اوقات اعداد و شمار میں تبدیل ہو کر رپورٹوں تک محدود رہ جاتی ہے۔ یہ صورتحال صرف متاثرہ خطوں کے لیے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک اجتماعی سوال بن چکی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا جنگوں کی طوالت کو ناگزیر حقیقت سمجھنے کے بجائے اسے انسانیت کے خلاف ایک اجتماعی ناکامی کے طور پر تسلیم کرے۔ امن کا بیانیہ محض سفارتی موقف نہ رہے بلکہ عملی پالیسیوں، مالیاتی ترجیحات اور انسانی بہبود کے منصوبوں میں جھلکتا نظر آئے۔ امدادی نظام کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کے لیے پائیدار حکمت ِ عملی مرتب کرنے، تنازعات کے سیاسی حل کی سنجیدہ کوشش کرنے اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی عزم کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر، انسانیت کا یہ سفر اندھیری سرنگ میں مزید دور تک اُترتا چلا جائے گا۔

2025 ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، صرف زخم زدہ معاشرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بھوک کے سامنے کسی نظریے کی برتری ثابت نہیں ہوتی، صرف کمزور جسم گر پڑتے ہیں۔ اگر عالمی نظام نے انسان کو مرکز ِ توجہ نہ بنایا تو آنے والے برس مزید سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ شاید اب وقت ہے کہ قومیں طاقت کے توازن سے زیادہ انسانی بقا کے توازن پر غور کریں کیونکہ جب انسان ہی محفوظ نہ رہے تو دنیا کی ترقی کس کام کی؟

سیف اللہ ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تک محدود جاتی ہے کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت