2025: جنگ، بھوک اور امدادی بحران؛ انسانی المیوں کا سال
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-03-6
بلاشبہ موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جس میں جنگ، بھوک، نقل مکانی، معاشی غیر یقینی اور موسمیاتی شدت ایک دوسرے میں اس طرح گتھ گئے ہیں کہ انسانی زندگی کی حرمت خود ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ 2025 کا سال خصوصاً اْن معاشروں کے لیے نہایت صبر آزما اور کٹھن ثابت ہوا جو پہلے ہی کمزور معیشت، کمزور ریاستی ڈھانچوں اور کمزور سماجی حفاظتی نظام کا شکار تھے۔ دنیا بھر میں جاری طویل جنگوں نے جہاں انسانی جسموں کو زخموں سے چْور کیا، وہیں روحوں کو بھی مایوسی اور عدم تحفظ کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ محض چند خطوں تک محدود تنازعات نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کے اثرات معاشروں کی بنیادی ساخت کو چیلنج کر رہے ہیں۔
دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد شاید ہی کبھی دنیا نے اتنے وسیع پیمانے پر بیک وقت اتنے زیادہ تنازعات کا سامنا کیا ہو۔ 2024 تک 61 جنگیں مختلف خطوں میں جاری تھیں اور 2025 میں ان کی شدت اور اثرات مزید بڑھ گئے۔ یہ جنگیں اب مختصر، محدود یا علاقائی نوعیت کی نہیں رہیں بلکہ طویل المدتی کشمکش میں بدل چکی ہیں جن میں ریاستی قوتوں کے ساتھ غیر ریاستی عناصر بھی پوری طرح متحرک ہیں۔ ایسے گروہ جنگی معیشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وسائل پر قبضہ جماتے ہیں، انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور امن کی کوششوں کو بار بار سبوتاژ کرتے ہیں۔ نتیجتاً عدم استحکام ایک مستقل کیفیت بن گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں لوگ اپنے گھروں، کھیتوں، بازاروں اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنگ کی آگ صرف گولی اور بارود تک محدود نہیں رہتی؛ یہ معاشی نظام کو توڑ دیتی ہے، ریاستی اداروں کو کمزور کرتی ہے اور سماجی رشتوں کو بکھیر دیتی ہے۔ کسان کھیت چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں تو زمین بنجر ہو جاتی ہے، منڈیاں ویران پڑ جائیں تو خوراک کی ترسیل ٹوٹ جاتی ہے، سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو جائیں تو زندگی کا پورا نظام کہیں میان میں رہ جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ 2025 میں غذائی قلت نے خطرناک موڑ اختیار کیا۔ لاکھوں خاندان اس صورتحال سے دوچار ہوئے جہاں روزی کا ذریعہ چھن گیا اور پلیٹ سے لقمہ غائب ہو گیا۔ بچوں کے چہروں سے مسکراہٹ کے بجائے خوف اور کمزوری کے آثار جھلکنے لگے۔ عالمی اداروں کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ کروڑوں بچے ایسے حالات میں جی رہے ہیں جہاں بھوک محض ایک وقتی کیفیت نہیں بلکہ موت کے قریب لے جانے والی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
جن معاشروں میں پہلے ہی غربت اور کمزور انفرا اسٹرکچر موجود تھا، وہاں اس بحران نے تباہی کو کئی درجے بڑھا دیا ہے۔ عالمی امداد میں کمی، مالیاتی دباؤ اور بین الاقوامی ترجیحات میں تبدیلی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ وہ ممالک جو ہمیشہ بیرونی امداد پر انحصار کرتے آئے تھے، اچانک وسائل کی کمی کے بھنور میں پھنس گئے۔ امدادی تنظیمیں میدان میں موجود ضرور ہیں، مگر ان کے ہاتھ وسائل کی قلت اور رسائی کی پابندیوں نے باندھ رکھے ہیں۔ بعض علاقوں میں جنگ جُو گروہوں کے ہاتھوں امدادی قافلے روکے جاتے ہیں، کہیں سیکورٹی خدشات رکاوٹ بنتے ہیں، اور کہیں سیاسی مفادات ضرورت مند انسانوں سے بڑھ کر اہم ٹھیرتے ہیں۔
سوڈان اس پوری تصویر کا شاید سب سے المناک چہرہ بن چکا ہے۔ برسوں سے جاری خانہ جنگی نے وہاں کے شہروں اور دیہاتوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، زرعی نظام ٹوٹ گیا، منڈیوں کا پہیہ جام ہو گیا، اور نتیجتاً قحط کی کیفیت نے زندگی کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔ بچوں کے معصوم جسم غذائی کمی سے کمزور اور نحیف ہو رہے ہیں، ماؤں کی آنکھوں میں بے بسی بسی ہوئی ہے، اور بزرگوں کے چہرے وقت کی کرختگی کے کرب سے بھرے ہوئے ہیں۔ سوڈان کی مثال محض ایک ملک کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس عالمی رجحان کی علامت ہے جس میں جنگیں انسانی تہذیب کے بنیادی ستونوں کو ہلا رہی ہیں۔
مگر بحران صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بھی تباہی کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ خشک سالی، بے موسمی بارشیں، سیلاب، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی بگاڑ نے زرعی معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ جب قدرتی آفات بار بار دروازہ کھٹکھٹائیں تو معاشرے سنبھلنے سے پہلے ہی دوبارہ گر پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے خطوں میں بھوک اور غربت جنگ کے بغیر بھی بڑھ رہی ہے، اور جب جنگ اور ماحولیاتی بگاڑ ایک ساتھ آ ملیں تو صورتحال ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔
2025 کی یہ کڑی حقیقت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ عالمی نظام میں کہیں نہ کہیں اخلاقی ترجیحات کمزور پڑ چکی ہیں۔ طاقت ور ممالک کے ایوانوں میں جغرافیائی مفادات، علاقائی اثر و رسوخ اور اسلحہ کی منڈیاں زیادہ اہم دکھائی دیتی ہیں، جبکہ کمزور اقوام کی چیخیں سفارتی شور میں دب جاتی ہیں۔ انسانی جان کی قدر، جسے تہذیب کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، بسا اوقات اعداد و شمار میں تبدیل ہو کر رپورٹوں تک محدود رہ جاتی ہے۔ یہ صورتحال صرف متاثرہ خطوں کے لیے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک اجتماعی سوال بن چکی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا جنگوں کی طوالت کو ناگزیر حقیقت سمجھنے کے بجائے اسے انسانیت کے خلاف ایک اجتماعی ناکامی کے طور پر تسلیم کرے۔ امن کا بیانیہ محض سفارتی موقف نہ رہے بلکہ عملی پالیسیوں، مالیاتی ترجیحات اور انسانی بہبود کے منصوبوں میں جھلکتا نظر آئے۔ امدادی نظام کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کے لیے پائیدار حکمت ِ عملی مرتب کرنے، تنازعات کے سیاسی حل کی سنجیدہ کوشش کرنے اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی عزم کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر، انسانیت کا یہ سفر اندھیری سرنگ میں مزید دور تک اُترتا چلا جائے گا۔
2025 ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، صرف زخم زدہ معاشرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بھوک کے سامنے کسی نظریے کی برتری ثابت نہیں ہوتی، صرف کمزور جسم گر پڑتے ہیں۔ اگر عالمی نظام نے انسان کو مرکز ِ توجہ نہ بنایا تو آنے والے برس مزید سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ شاید اب وقت ہے کہ قومیں طاقت کے توازن سے زیادہ انسانی بقا کے توازن پر غور کریں کیونکہ جب انسان ہی محفوظ نہ رہے تو دنیا کی ترقی کس کام کی؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تک محدود جاتی ہے کے لیے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔