مہنگائی، منافع خوری اور رہائش کا بحران: پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا مستقبل کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستان میں زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور رئیل اسٹیٹ میں منافع خوری نے عام شہری کے لیے گھر کا حصول مشکل بنا دیا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کاروں کے مسلسل داخلے نے مارکیٹ میں عدم توازن بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے جائیداد کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ، رہائشی بستیوں کی بے لگام توسیع اور غیر حقیقی سرمایہ کاری نے نہ صرف عام آدمی کے لیے گھر کا حصول قریباً ناممکن بنا دیا ہے بلکہ سماجی اور معاشی ناہمواری کو بھی تشویشناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تیاری مکمل، بھاری جرمانے تجویز
اس تمام صورتِ حال میں اصل سوال یہ ہے کہ زمین کو دولت کا ذریعہ بنا دینے والی یہ سوچ پاکستان کے مستقبل کو کس سمت لے جا رہی ہے۔ کیا یہ ملک کو مضبوط کرے گی یا معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کرے گی؟
پاکستان میں جائیداد کو ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، رانا اکرماس حوالے سے بار کرتے ہوئے نائب صدر فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان رانا محمد اکرم نے کہاکہ پاکستان میں زمین اور جائیداد کو ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے۔ عوام کی معاشی سوچ میں زمین ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، اسی لیے لوگ دیگر کاروباروں کی نسبت اسے زیادہ قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔ زمین کو نہ صرف دولت کا ذریعہ بلکہ معاشی استحکام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اگر زمین اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری منظم انداز میں ہو تو یہ پورے معاشی ڈھانچے کو فعال کرتا ہے۔ اس شعبے سے درجنوں صنعتیں، ہزاروں محنت کش اور بے شمار کاروبار وابستہ ہوتے ہیں، اسی لیے اسے صنعتوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔
تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جب سرمایہ صرف زمین خرید کر رکھنے اور منافع خوری کے مقصد سے استعمال ہو تو معاشی توازن بگڑ جاتا ہے۔ ایسی سرمایہ کاری نہ صرف زمین کی قیمتوں میں غیر فطری اضافہ کرتی ہے بلکہ رہائش کے بحران کو بھی جنم دیتی ہے۔
’جائیداد میں بے تحاشا منافع خوری نے معاشرے میں غیر معمولی تفاوت پیدا کیا‘رانا محمد اکرم کے مطابق جائیداد میں بے تحاشا منافع خوری نے معاشرے میں غیر معمولی تفاوت پیدا کیا ہے۔ بڑے سرمایہ کار وسیع زمینیں خرید کر محفوظ رکھتے ہیں جبکہ عام شہری کے لیے گھر خریدنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ زمین چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے طبقاتی فرق میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاشرتی توازن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
حکومت کی موجودہ پالیسیوں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے رانا اکرم نے کہاکہ ملک میں ایک ایسا مضبوط اور بااختیار ادارہ موجود نہیں جو زمین، رہائشی منصوبوں اور تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کرے۔ رجسٹریشن اور ریکارڈ کے نظام میں بے قاعدگیاں، پالیسیوں کا بار بار بدلنا، ٹیکس قوانین کی پیچیدگیاں اور منظوریوں کا غیر شفاف طریقہ کار اس شعبے کو بدعنوانی، غیر یقینی صورتحال اور بے اعتمادی کی طرف لے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بے شمار رہائشی منصوبے بغیر مکمل منظوری کے کام کرتے ہیں، جس سے عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
’ملک میں فوری طور پر سخت اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں فوری طور پر سخت اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایک بااختیار ریگولیٹری ادارہ قائم کرکے زمین کے ریکارڈ، ملکیت اور منتقلی کے تمام مراحل کو شفاف، مستند اور قابلِ تصدیق بنایا جائے۔
رانا اکرم نے کہاکہ منافع خوری پر قابو پانے کے لیے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی جائیں اور عام شہری کے لیے کم لاگت رہائش اور سہل مالی معاونت کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ اسی طرح سرکاری اور نجی منصوبوں کی نگرانی، جانچ پڑتال اور تکمیل کے مراحل کو سخت ضابطوں میں لایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور بازار مستحکم ہو۔
انہوں نے خبردار کرتے کیا کہ زمین کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا قریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ آمدنی اور قیمتوں کے درمیان بڑھتا فرق لوگوں کو کرائے یا غیر معیاری رہائش تک محدود کررہا ہے، جس کا اثر پورے معاشرتی اور خاندانی ڈھانچے پر پڑ رہا ہے۔
مستقبل کے بارے میں رانا محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اگلے چند برس اس شعبے کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر حکومت نے شفافیت، نظم و ضبط اور عوام دوست پالیسیوں کی سمت اختیار کی تو یہ شعبہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور معاشی سرگرمیوں کو وسعت دے گا۔ لیکن اگر موجودہ غیر منظم اور منافع خوری پر مبنی رجحان جاری رہا تو مزید معاشی عدم استحکام، رہائش کا بحران اور سماجی بے چینی جنم لے سکتی ہے۔
ان کے مطابق اب بھی وقت ہے کہ درست فیصلے کرکے اس شعبے کو منظم اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔
پراپرٹی میں سرمایہ کاری ہمیشہ ایک مضبوط اور دیرپا فیصلہ ثابت ہوتی ہے، جبران شوکترئیل اسٹیٹ ایکسپرٹ جبران شوکت عباسی نے کہاکہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ آج بھی محفوظ ترین سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے۔ اس شعبے سے منسلک درجنوں انڈسٹریز ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں، اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ پراپرٹی میں سرمایہ کاری ہمیشہ ایک مضبوط اور دیرپا فیصلہ ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب تعمیراتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں تو اسٹیل، سیمنٹ، پینٹ، الیکٹرک اور ماربل جیسی صنعتیں چلتی ہیں، جس سے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی سرگرمی تیز ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی پراپرٹی اب بھی بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں کم قیمت پر موجود ہے۔ لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرایہ جات اب بھی متوازن سطح پر ہیں۔ ایک 5 کروڑ کے گھر کا کرایہ قریباً ڈھائی لاکھ روپے ہونا بنتا ہے، جبکہ 15 کروڑ کی پراپرٹی کا کرایہ ساڑھے سات لاکھ کے قریب ہونا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رینٹل ریٹرن اب بھی سرمایہ کار کے لیے مناسب ہے۔
’زمین کی قیمتوں میں اضافہ عام ملازمت پیشہ طبقے کے لیے مسئلہ بن رہا ہے‘جبران شوکت کے مطابق زمین کی قیمتوں میں اضافہ البتہ عام ملازمت پیشہ طبقے کے لیے مسئلہ بن رہا ہے، کیونکہ مناسب گھر خریدنا ان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود شہر کے مرکزی علاقوں سے باہر خصوصاً نیو ایئرپورٹ، چکری انٹرچینج اور نیول بورڈ کے اطراف اب بھی مناسب قیمتوں پر جگہ مل سکتی ہے جہاں پانچ مرلے کے پلاٹس 2 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک دستیاب ہیں۔
ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میری رائے میں سب سے بڑا مسئلہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لیگل حیثیت کے حوالے سے ہے۔ عوام نے اربوں روپے لگائے، لیکن کئی منصوبوں کی این او سی کی حیثیت آج تک واضح نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک ایسا آن لائن سسٹم یا ایپ بنائے جہاں لوگ ریئل ٹائم میں چیک کر سکیں کہ کون سی سوسائٹی منظور شدہ ہے اور کون سی نہیں، تاکہ لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی محفوظ رہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ کچھ عرصے سے ٹیکس پالیسیوں، بینک اکاؤنٹس کی بندش اور آمدن کے ذرائع کی سختیوں نے سرمایہ کاری کو مشکل بنا دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس پالیسی میں نرمی لائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکے۔
مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک، موٹرویز اور نئے انفراسٹرکچر پراجیکٹس رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے غیر معمولی فائدے لائیں گے۔ نئی سڑکیں نہ صرف زمین کی قیمت بڑھاتی ہیں بلکہ تعلیمی ادارے، صنعتیں اور زرعی شعبے کی ترقی جیسے نتائج بھی ساتھ لاتی ہیں، جبکہ زرعی آبادی کو منڈیوں تک بہتر رسائی ملتی ہے جس سے معیشت مجموعی طور پر مضبوط ہوتی ہے۔
’اگلے 10 سے 15 سال پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کے لیے بہت اہم ہوں گے‘’میری رائے میں اگلے 10 سے 15 سال پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے لیے بہت اہم ہوں گے۔ بڑھتی آبادی، توسیع پاتی شاہراہیں اور سی پیک کے اثرات اس شعبے کو مزید مستحکم اور منافع بخش بنائیں گے۔‘
رئیل اسٹیٹ ایکسپرٹ عدنان قریشی کے مطابق پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اس وقت ایک واضح ’سپیـکولیٹو ببل‘ کا شکار ہے، جہاں قیمتوں میں اضافہ حقیقی ضرورت کے بجائے بے ضابطہ سرمایہ، غیر دستاویزی آمدن اور غیر منظم لین دین سے جنم لے رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں یکساں اور مرکزی زمین کا ریکارڈ موجود نہ ہونا، ریگولیٹری اختیار رکھنے والے ادارے کی عدم موجودگی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی قانونی حیثیت کا مبہم رہنا اس شعبے کو انتہائی خطرناک معاشی حد تک لے جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ریئل اسٹیٹ سیکٹر پھر اٹھنے لگا، ڈی ایچ اے کراچی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کیوں؟
عدنان قریشی کے مطابق اگر حکومت نے فوری طور پر ڈیجیٹل لینڈ رجسٹری، سخت ریگولیٹری اتھارٹی اور منافع خوری پر قابو پانے کے لیے مخصوص ٹیکس نظام نافذ نہ کیا تو آئندہ برسوں میں رئیل اسٹیٹ شعبہ قومی معیشت کے لیے شدید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک غیر منظم مالیاتی سرگرمی بن چکی ہے جو معیشت کو حقیقی ترقی سے دور کررہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews رئیل اسٹیٹ مارکیٹ رہائش کا بحران عام شہری منافع خوری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رئیل اسٹیٹ مارکیٹ رہائش کا بحران منافع خوری وی نیوز میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری ان کے مطابق منافع خوری اس شعبے کو ان کا کہنا بنا دیا ہے اور منافع میں اضافہ انہوں نے نے کہاکہ زمین کی ہوتی ہے ملک میں اب بھی رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔