کولمبیا سے کیوبا تک، وینزویلا کے بعد کونسے ممالک امریکی حملے کا شکار ہوسکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار کرکے امریکا منتقل کیے جانے کے غیر معمولی اقدام کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک کو براہِ راست یا بالواسطہ دھمکیوں نے عالمی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔
3 جنوری کو ہونے والی اس کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ نے تاریخی منرو ڈاکٹرائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا براعظم امریکا میں کسی بھی قسم کی ’غیر مطلوبہ سرگرمی‘ برداشت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے قریبی حلقے ان کے اس جارحانہ مؤقف کو طنزیہ طور پر ’ڈونرو ڈاکٹرائن‘ قرار دے رہے ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کئی ممالک کے بارے میں سخت بیانات دیے، جن میں درج ذیل ممالک نمایاں ہیں:
مزید پڑھیں: امریکی کارروائی میں گرفتار وینزویلا کے صدر مادورو نیویارک جیل منتقل
کولمبیاصدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بیمار ذہن کا انسان قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ وہ منشیات تیار کرکے امریکا بھیجنے میں ملوث ہیں۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ کولمبیا زیادہ عرصے تک اس روش پر قائم نہیں رہ سکے گا، جس سے ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کیوباکیوبا کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے اسے ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا جلد اس ملک کے معاملے پر سنجیدہ گفتگو کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کیوبا کی حکومت کا حصہ ہوتے تو شدید تشویش میں مبتلا ہوتے۔
میکسیکوصدر ٹرمپ نے ایک بار پھر میکسیکو میں منشیات کارٹلز کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام واضح کر چکی ہیں کہ وہ امریکی افواج کو اپنی سرزمین پر اجازت نہیں دیں گی۔
گرین لینڈٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی اور چینی آبدوزوں کی موجودگی خطرناک ہے۔ ڈنمارک، جو نیٹو کا رکن ہے، کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے اس بیان کو خودمختار علاقے کے خلاف دھمکی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کی صورتحال پر نظر، پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں، دفتر خارجہ
ایرانایران میں جاری احتجاج اور تشدد کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکومت نے ماضی کی طرح مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکا انتہائی سخت ردعمل دے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا جارحانہ طرزِعمل عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ کئی ممالک پہلے ہی ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشے کے تحت سفارتی اور دفاعی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران صدر ٹرمپ کولمبیا کیوبا گرین لینڈ میکسیکو وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران کولمبیا کیوبا گرین لینڈ میکسیکو وینزویلا وینزویلا کے ہوئے کہا کہ دیتے ہوئے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔