ملک کی آزادی کو برقرار رکھیں، پوپ لیو کا وینزویلا کے عوام کے لیے پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ویٹیکن سٹی: پوپ لیو نے وینزویلا کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے صدر نکولس مادورو کے تختہ الٹنے کے بعد کی صورتِ حال کو پریشانی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
پوپ لیو نے کہا کہ وینزویلا میں انسانی حقوق اور آئینی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہر کسی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے زائرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’ہمیں تشدد کے خاتمے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور انصاف و امن کے راستوں پر گامزن ہونا چاہیے، جبکہ ملک کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے‘‘۔
مزید پڑھیںوینزویلا پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی دھمکیاں
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول کے لیے مادورو کی گرفتاری کے لیے آپریشن کی ہدایت دی تھی۔ مادورو اس وقت نیو یارک کی جیل میں ہیں جہاں وہ منشیات کے الزامات کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں۔
پوپ لیو، جنہوں نے ٹرمپ کی بعض پالیسیوں پر تنقید کی ہے، انہوں نے دسمبر میں بھی امریکا سے کہا تھا کہ مادورو کو فوجی طاقت کے ذریعے برطرف نہ کیا جائے۔ پوپ نے زور دیا کہ وینزویلا کے عوام کی بھلائی ہر معاملے پر فوقیت رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوپ لیو
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔