عوامی ورکرز پارٹی کا وینز ویلا میں امریکی دراندازی کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-11-7
سکھر(نمائندہ جسارت )عوامی ورکرز پارٹی ) نے وینزویلا میں امریکی سامراجی فوجی قوتوں کی جانب سے کی گئی مکمل طور پر ناجائز، غیر قانونی اور بے رحم فوجی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں امریکی کمانڈو یونٹ نے اغوا کر لیا ہے۔عوامی ورکرز پارٹی کے سیکریٹری جنرل بخشل تھلہو نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایک خودمختار ملک کی حاکمیت کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی تعلقات کے تمام اصولوں کو پامال کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف مغربی نصف کرے (ویسٹرن ہیمسفیئر) بلکہ پوری دنیا عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی سامراج آج بھی عالمی امن، اقوامِ عالم اور کر? ارض کے ماحولیاتی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وینزویلا 1990 کی دہائی کے اواخر سے سامراج کے خلاف ایک تاریخی چیلنج پیش کرتا آ رہا ہے، جب مرحوم ہوگو شاویز صدر منتخب ہوئے اور ملک کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا، جو دنیا کی چوتھی بڑی تیل پیدا کرنے والی صنعت ہے۔بیان میں کہا گیا کہ 2002ء کے بعد سے مسلسل امریکی صدور نے ہوگو شاویز اور بعد ازاں ان کے جانشین نکولس مادورو کے خلاف مختلف بغاوتی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کیں، جبکہ حالیہ حملہ وینزویلا پر سامراجی کنٹرول دوبارہ قائم کرنے کی ایک اور بزدلانہ کوشش ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔