وینزویلا کے انتظامات امریکا دیکھے گا، امریکی صدر کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس نوعیت کی کارروائی نہیں دیکھی، امریکا نے وینزویلا کے خلاف غیر معمولی آپریشن کیا جبکہ اس سے قبل ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے، جسے آپریشن ہیمر کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا گیا اور دونوں کو امریکی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، مادورو ایک ظالم حکمران تھے جو اپنے لوگوں کو گرفتار اور قتل کرواتے رہے،یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی گئی ہے اور اب وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا دیکھے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے عوام دہائیوں سے مشکلات کا شکار تھے، حالانکہ ملک کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہیں، مادورو ایک مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہے تھے جو امریکا کو منشیات فراہم کرتا تھا، اسی لیے ان پر کرمنل چارجز عائد کیے جائیں گے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا وینزویلا پر ایک اور حملے کے لیے بھی تیار ہے، امریکی تیل کمپنیاں اب وینزویلا جائیں گی اور وہاں کے عوام کے لیے بہتر فیصلے کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی گزشتہ آٹھ ماہ سے محفوظ ہے اور اس پر وہ نیشنل گارڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شکر گزار ہیں، مادورو اب امریکا کے لیے کبھی خطرہ نہیں بنیں گے اور کراکس میں کامیاب آپریشن امریکا کو دھمکیاں دینے والوں کے لیے واضح پیغام ہے۔
امریکی صدر نے آخر میں کہا کہ امریکا اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے گا اور منشیات کے کارٹلز کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وینزویلا کے امریکی صدر کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔