واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس نوعیت کی کارروائی نہیں دیکھی،  امریکا نے وینزویلا کے خلاف غیر معمولی آپریشن کیا جبکہ اس سے قبل ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے، جسے آپریشن ہیمر کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا گیا اور دونوں کو امریکی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، مادورو ایک ظالم حکمران تھے جو اپنے لوگوں کو گرفتار اور قتل کرواتے رہے،یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی گئی ہے اور اب وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا دیکھے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے عوام دہائیوں سے مشکلات کا شکار تھے، حالانکہ ملک کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہیں،  مادورو ایک مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہے تھے جو امریکا کو منشیات فراہم کرتا تھا، اسی لیے ان پر کرمنل چارجز عائد کیے جائیں گے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا وینزویلا پر ایک اور حملے کے لیے بھی تیار ہے، امریکی تیل کمپنیاں اب وینزویلا جائیں گی اور وہاں کے عوام کے لیے بہتر فیصلے کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی گزشتہ آٹھ ماہ سے محفوظ ہے اور اس پر وہ نیشنل گارڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شکر گزار ہیں،  مادورو اب امریکا کے لیے کبھی خطرہ نہیں بنیں گے اور کراکس میں کامیاب آپریشن امریکا کو دھمکیاں دینے والوں کے لیے واضح پیغام ہے۔

امریکی صدر نے آخر میں کہا کہ امریکا اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے گا اور منشیات کے کارٹلز کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وینزویلا کے امریکی صدر کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان