چین، فرانس، ایران، کولمبیا اور کیوبا کی وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ماسکو/بیجنگ/پیرس: روس کے بعد چین، فرانس، ایران، کولمبیا اور کیوبا نے بھی وینزویلا میں امریکا کی جانب سے کیے گئے فوجی آپریشن کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایک خودمختار ملک کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ہے جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ وینزویلا کی آزادی پر بھی حملہ ہے، چین نے امریکا پر زور دیا کہ وہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کرے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری عالمی قوانین کے خلاف ہے، کسی ملک کے صدر کو ہٹانا اور اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچانا درست نہیں، وینزویلا کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کو کرنا چاہیے۔
ایران نے امریکی حملے کو وینزویلا کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری کارروائی کرے اور اس حملے کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرائے۔
اس کے علاوہ کولمبیا اور کیوبا کی قیادت نے بھی مادورو حکومت کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل روس نے بھی وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وینزویلا کی قیادت کی ملکی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا،لاطینی امریکا کو امن کا خطہ رہنا چاہیے اور ضروری ہے کہ مزید کشیدگی کو روکا جائے جبکہ بات چیت کے ذریعے بحران کا حل تلاش کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نے بھی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔