جب بالادستی قوانین پر حاوی ہو جائے: مادورو کی گرفتاری اور امریکی رویے کا خطرناک اشارہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز

بیجنگ () امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا ، جس پر عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس واقعے نے دنیا کو واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر بالادستی کا یہ طرزِ عمل یونہی جاری رہا اور طاقت کو قواعد و ضوابط پر فوقیت دی جاتی رہی تو بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کا وقار مجروح ہو جائے گا اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر “جنگل کے قانون” جیسے خطرناک دور کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
اگست 2025 سے امریکہ نے “بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی” کے نام پر کیریبین خطے میں جنگی جہازوں کی تعیناتی، تیل بردار جہازوں کی ضبطی اور سمندری راستوں کی جبری ناکہ بندی سمیت متعدد اشتعال انگیز اقدامات کیے۔ٹرمپ انتظامیہ نے نہ صرف یک طرفہ طور پر مادورو حکومت کو “غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” قرار دیا ، وینزویلا کے بیرونِ ملک اثاثے منجمد کیے، اس کی عالمی توانائی تجارت کے راستے مسدود کیے بلکہ سفارتی ذرائع سے مادورو پر انتہائی دباؤ ڈال کر اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ جب سفارتی دباؤ اور معاشی ناکہ بندی مؤثر ثابت نہ ہوئی تو امریکہ نے خصوصی دستوں کے ذریعے سرحد پار فوجی کارروائی کی اور رات کی تاریکی میں سوئے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا۔ امریکی اقدامات دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں طاقت کے ذریعے مداخلت کرنا ہے، جبکہ اس کا پسِ پردہ مقصد وینزویلا کے توانائی وسائل کو لوٹنا ہے ۔ یہ اقدام نہ صرف وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی قواعد کی صریح توہین بھی ہے۔
امریکہ کے بالادستی رویے نے دنیا بھر میں شدید مخالفت اور مذمت کو جنم دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے فوری طور پر امریکی اقدام پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سخت مذمت کی۔ برازیل کے صدرلوئز اناسیو لولا ڈی سلوا نے کہا کہ امریکہ نے “بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک خودمختار ریاست پر حملہ کیا، جو تشدد، انتشار اور عدم استحکام سے بھرپور دنیا کی طرف پہلا قدم ہے”۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اس اقدام کو “خطرناک بین الاقوامی مثال” قرار دیا، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔امریکہ کے اندر بھی اس کارروائی پر شدید تنقید سامنے آئی، متعدد شہروں میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر وینزویلا میں فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے کیے ، ایک سینیٹر نے کہا کہ امریکہ ایک “عالمی غنڈہ ” بن چکا ہے۔ یہ ردِعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ کثیر قطبی دنیا میں بالادستی اور طاقت کی سیاست اب قابلِ قبول نہیں رہی اور یک طرفہ اقدامات عالمی برادری کی اجتماعی مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دہانی کراتا ہے کہ بالادستی آج کے دور میں عالمی امن اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تاریخ اور موجودہ حقائق بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ریاستی خودمختاری کی برابری عالمی امن کی بنیاد ہے، جبکہ خود کو برتر سمجھنا اور کمزوروں پر طاقت آزمانا تنازعات اور عدم استحکام کی اصل جڑ ہے۔ وینزویلا کے لیے یہ غیر قانونی فوجی کارروائی پہلے سے موجود معاشی کساد اور انسانی بحران کو مزید گہرا کرے گی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہجرت اور سرحد پار منشیات اسمگلنگ جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں، جو پورے لاطینی امریکہ کے امن و استحکام کو متاثر کریں گے۔
ایک وسیع و طویل نقطہ نظر سے، امریکہ کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے: اگر بڑی طاقتیں کسی بھی خودمختار ملک کو من مانے طور پر “دہشت گرد تنظیم” کا لیبل لگا کر فوجی کارروائی کے ذریعے اس کے منتخب سربراہ کو گرفتار کرنے لگیں تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عالمی نظام انتشار کا شکار ہو جائے گا، جس سے دنیا ایک بار پھر “جنگل کے قانون” کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی نظام پر بالادستی کے خطرات کے تناظر میں چین نے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیے ، جن کا مقصد خودمختاری کی برابری، مشترکہ سلامتی، تعاون اور مشترکہ مفادات اور ہم آہنگ بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے۔ یہ اصول بالادستانہ رویوں کے بالکل برعکس ہیں۔ تاریخ اور حقیقت دونوں اس امر کی گواہ ہیں کہ دنیا کو انصاف درکار ہے، جبر نہیں؛ مشترکہ سلامتی مطلوب ہے، یک طرفہ بالادستی نہیں۔ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مفادات کو بین الاقوامی قانون اور عالمی برادری کے اجتماعی مفاد پر فوقیت دے۔ تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام اور عوام کے اپنے ترقیاتی راستے کے انتخاب کا حق ہر حال میں محفوظ رہنا چاہیے۔ بالادستی کی منطق پر عمل، بین الاقوامی قواعد کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی نظام کو چیلنج کرنا بالآخر تنہائی، علاقائی عدم استحکام اور عالمی امن کے لیے خطرات میں اضافے کا سبب بنے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد عالمی تشویش، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب وینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد عالمی تشویش، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب روسی وزارتِ خارجہ کی وینزویلا کے خلاف امریکی مسلح کارروائی کی شدید مذمت چین کی وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی شدید مذمت وینزویلا میں امریکی حملے میں گرفتار صدر نکولس مادورو نیویارک پہنچا دیا گیا وینزویلا کسی کی کالونی نہیں بنے گا، امریکی کارروائی پر نائب صدر کا دو ٹوک اعلان امریکا کا وینزویلا پر حملہ، صدر اور اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا: ٹرمپ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ہو جائے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا