ملک کے بالائی علاقے بدستور شدید سردی کی لپیٹ میں، برفباری سے پہاڑ سفید ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ملک کے بالائی علاقے بدستور شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، جھیلیں جم گئیں جبکہ برفباری کے باعث پہاڑ سفید ہو گئے جس سے آزاد کشمیر، خبیرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کی رونقیں بڑھ گئیں۔اسلام آباد خشک سردی اور دھند کی لپیٹ میں ہے، شہر کا مطلع دن بھر ابر آلود رہا، محکمہ موسمیات کے مطابق شہر اقتدار میں بارش کا کوئی امکان نہیں، لاہور میں بھی سردی بڑھ گئی جبکہ دھند کی شدت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی، شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ملکہ کوہسار مری میں برفباری کے بعد جب دھوپ نکلی تو نظارے اور بھی دلفریب ہوگئے، خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے سیاحوں نے تفریحی مقامات کا رخ کیا، سیاح قدرت کے حسین نظاروں سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ہزارہ ڈویژن کے بالائی علاقوں میں پھر سے برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا، چھٹی کے روز نتھیا گلی میں ڈیرے ڈالے سیاحوں نے سنو فال کو خوب انجوائے کیا، ادھر مالم جبہ کا موسم بھی حسین ہو گیا، سیاحوں کی کثیر تعداد نے وادی کا رخ کیا، قدرتی حسن اور برف باری سے محظوظ ہوئے۔وادی شگر میں موسم سرما اور سال کی پہلی برفباری کا آغاز ہو گیا، برفباری کے باعث وادی کا موسم سرد ہو گیا، ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں کمی آگئی، برفباری پر سیاحوں کے چہرے کھل اٹھے، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور وسطی اضلاع میں بھی سردی کی شدت بڑھ گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہو گیا
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔